لٹریچر

ستاروں سے آگے - قرۃ العین حیدر

کرتار سنگھ نے اونچی آواز میں ایک اور گیت گانا شروع کردیا۔ وہ بہت دیر سے ایک ماہیا الاپ رہا تھا۔ جس کو سنتے سنتے حمیدہ کرتار سنگھ کی پنکج جیسی تانوں سے، اس کی خوبصورت داڑھی سے، ساری کائنات سے اب اس شدت کے ساتھ بیزار ہوچکی تھی کہ اسے خوف ہوچلا تھا کہ

Read More

گنڈاسا - احمد ندیم قاسمی

اکھاڑہ جم چکا تھا۔ طرفین نے اپنی اپنی ”چوکیاں“ چن لی تھیں۔ ”پڑکوڈی“ کے کھلاڑی جسموں پر تیل مل کر بجتے ہوئے ڈھول کے گرد گھوم رہے تھے۔ انہو ں نے رنگین لنگوٹیں کس کر باندھ رکھی تھیں۔ ذرا ذرا سے سفید پھینٹھیے ان کے چپڑے ہوئے لانبے لابنے پٹوں کے نیچے سے گزر کر

Read More

اپنے دُکھ مجھے دے دو - راجندر سنگھ بیدی

شادی کی رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا۔ جب چکلی بھابی نے پھسلاکر مدن کو بیچ والے کمرے میں دھکیل دیا تو اندو سامنے شالوں میں لپٹی ہوئی اندھیرے کا بھاگ بنی جارہی تھی۔ باہر چکلی بھابی، دریا آباد والی پھوپھی اور دوسری عورتوں کی ہنسی، رات کے خاموش پانی میں

Read More

گڈریا - اشفاق احمد

یہ سردیوں کی ایک یخ بستہ اور طویل رات کی بات ہے۔ میں اپنے گرم گرم بستر میں سر ڈھانپے گہری نیند سورہا تھا کہ کسی نے زور سے جھنجھوڑ کر مجھے جگا دیا۔ ”کون ہے۔“ میں نے چیخ کر پوچھا اور اس کے جواب میں ایک بڑا سا ہاتھ میرے سر سے ٹکرایا اور

Read More

کپاس کا پھول - احمد ندیم قاسمی

مائی تاجو ہر رات ایک دو گھنٹے تو ضرور سولیتی تھی، لیکن اس رات غصے نے اسے اتنا سا بھی سونے کی مہلت نہ دی۔ پو پھٹے جب وہ کھاٹ پر سے اُترکر پانی پینے کے لیے گھڑے کی طرف جانے لگی تو دوسرے ہی قدم پر اسے چکر آگیا تھا اور وہ گرپڑی تھی۔

Read More

آنندی- غلام عباس

بلدیہ کا اجلاس زوروں پر تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خلافِ معمول ایک ممبر بھی غیر حاضرنہ تھا۔ بلدیہ کے زیرِ بحث مسئلہ یہ تھا کہ زنان بازاری کو شہر بدر کردیا جائے کیونکہ ان کا وجود انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بد نما داغ ہے۔ بلدیہ کے ایک بھاری

Read More

آخری آدمی - انتظار حسین

الیاس اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔ اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر

Read More

نیا قانون - سعادت حسن منٹو

منگو کوچوان اپنے اڈے میں بہت عقلمند آدمی سمجھا جاتا تھا۔ گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابر تھی اور اس نے کبھی اسکول کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا، لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں کا علم تھا۔ اڈے کے وہ تمام کوچوان جن کو یہ جاننے کی خواہش ہوتی

Read More

آپا - ممتاز مفتی

جب کبھی بیٹھے بٹھائے مجھے آپا یاد آتی ہے تو میری آنکھوں کے آگے چھوٹا سا بلوری دیا آجاتا ہے جو نیم لو سے جل رہا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ ایک رات ہم سب چپ چاپ باورچی خانے میں بیٹھے تھے۔ میں، آپا اور امی جان، کہ چھوٹا بدو بھاگتا ہوا آیا۔ ان دنوں

Read More

عید گاہ - منشی پریم چند

رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی۔ کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے۔ بچے کی طرح پرتبسم درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں کچھ عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے۔ آج کا آفتا ب دیکھ کتنا پیارا ہے گویا دُنیا کو عید کی خوشی پر مبارکباد دے

Read More

ناسٹیلجیا (9) - پروفیسر سلمان باسط

آپ بیتی ادب کی ایک ایسی صنف ہے، جس کے ذریعے ہمیں کسی ایسے شخص کے حالاتِ زندگی تک رسائی ہوتی ہے، جس نے زندگی کے کسی بھی شعبے میں نام کمایا ہو۔ بظاہر تو لکھنے والا اپنی داستانِ حیات رقم کرتا ہے لیکن اس کی طرزِ نگارش اور جزیات نگاری اسے جگ بیتی کا

Read More

ماں جی - قدرت اللہ شہاب

ماں جی کی پیدائش کا صحیح سال معلوم نہ ہوسکا۔ جس زمانے میں لائل پور کا ضلع نیا نیا آباد ہورہا تھا، پنجاب کے ہر قصبے سے مفلوک الحال لوگ زمین حاصل کرنے کے لیے اس نئی کالونی میں کھنچے چلے آرہے تھے، عرفِ عام میں لائل پور، جھنگ، سرگودھا وغیرہ کو بار کا علاقہ

Read More

عشق نہ پُچھے - رشید امجد

رشید امجد اُس کے ساتھ تعلق کی ایک زمانی مُدت تو تھی ہی، لیکن لگتا یوں ہے جیسے یہ تعلق اَزلوں اَزلی ہے۔ چودہ پندرہ برس پہلے اُس نے پہلی بار اُسے دیکھا‘ اِس سے پہلے اُس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ پُرانے گھر میں جو شہر کے قدیمی حِصّے میں تھا‘ اِس کی ضرورت

Read More

تائی ایسری - کرشن چندر

میں گرانٹ میڈیکل کالج کلکتہ میں ڈاکٹری کا فائنل کورس کررہا تھا اور اپنے بڑے بھائی کی شادی پر چند روز کے لیے لاہور آگیا تھا۔ یہیں شاہی محلے کے قریب کوچہ ٹھاکر داس میں ہمارا جہاں آبائی گھر تھا، میری ملاقات پہلی بار تائی ایسری سے ہوئی۔ تائی ایسری ہماری سگی تائی تو نہ

Read More

عجیب الخلقت - میکسم گورکی

دن گرم ہے۔ ہر طرف سکوت کا دور دورہ ہے۔ زندگی ایک پر نور سکون و طمانیت کی آ غوش میں آرام کررہی ہے۔ نیلا آ سمان محبت بھری نگاہوں سے زمین کو دیکھ رہا ہے۔ سورج گویا آ سمان کی آتشیں پتلی ہے۔ سمندر نیلگوں دھات کی ایک ہموار اور چکنی چادر کی مانند

Read More

ایک زاہدہ، ایک فاحشہ - سعادت حسن منٹو

جاوید مسعود سے میرا اتنا گہرا دوستانہ تھا کہ میں ایک قدم بھی اُس کی مرضی کے خلاف اُٹھا نہیں سکتا تھا۔ وہ مجھ پر نثار تھا، میں اُس پر۔ ہم ہر روز قریب قریب دس بارہ گھنٹے ساتھ ساتھ رہتے۔ وہ اپنے رشتے داروں سے خوش نہیں تھا۔ اس لیے جب بھی وہ بات

Read More

کفن - منشی پریم چند

جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا دردِ زہ سے پچھاڑیں کھارہی تھی اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ایسی دلخراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے۔ جاڑوں کی رات تھی۔ فضا

Read More

خونی تھوک - سعادت حسن منٹو

گاڑی آنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ مسافروں کے گروہ کے گروہ پلیٹ فارم کے سنگین سینے کو روندتے ہوئے ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ پھل بیچنے والی گاڑیاں ربڑ ٹائر پہیوں پر خاموشی سے تَیر رہی تھیں۔ بجلی کے سینکڑوں قمقمے اپنی نہ جھپکنے والی آنکھوں سے ایک دوسرے کو ٹکٹکی لگائے دیکھ

Read More

باسودے کی مریم - اسد محمد خان

مریم کے خیال میں ساری دنیا میں بس تین ہی شہر تھے: مکہ ،مدینہ اور گنج باسودہ۔ مگر یہ تین تو ہمارا آپ کا حساب ہے، مریم کے حساب سے مکہ، مدینہ ایک ہی شہر تھا۔ ”اپنے حجور کا شہر“۔ مکے مدینے سریپ میں ان کے حجور تھے اور گنج باسودے میں اُن کا ممدو۔

Read More

کالی شلوار - سعادت حسن منٹو

دہلی آنے سے پہلے وہ انبالہ چھاؤنی میں تھی۔ جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی۔ ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی۔ لیکن جب وہ دہلی میں آئی اور اس کا کاروبار نہ چلا تو

Read More