منہ سے بدبو آنے کی 3 وجوہات

انتظار فرمائیں۔۔۔

ہمارے معاشرے میں منہ سے بو آنے کو بالکل پسند نہیں کیا جاتا حتی کہ اس بارے میں گفتگو سے بھی پرہیز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ہر چوتھے شخص کے منہ سے بو آتی ہی ہے۔

طبی اعتبار سے بات کی جائے تو منہ سے بو آنے کی وجہ گندھک جیسے مادے کا اخراج ہونا ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے کہ جب خلیات مرنا اور پھر قدرتی عمل سے دوبارہ بننا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ منہ میں مختلف بیکٹیریا کی موجودگی کے باعث بھی ہوتا ہے۔

بو کا اخراج یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ آپ اپنے دانتوں کی صفائی سمیت منہ کی صحت کا کس قدر خیال رکھتے ہیں۔ مسوڑھوں کی بیماری بھی منہ سے بو آنے کی بڑی وجہ ہے۔ یہ بیماری دانتوں کے درمیان بیکٹیریا کے پھلنے پھولنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس مسئلہ کی کئی ایک وجوہات اور بھی ہوسکتی ہیں جن کے بارے میں عام طور پر کم ہی لوگ جانتے ہیں۔

بہت زیادہ بولنا
ہر وہ عمل جس سے آپ کے دانت، زبان اور مسوڑھے خشک ہوجاتے، آپ کے منہ سے بو آنے کی وجہ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ منہ کے ذریعے بہت زیادہ سانس لینے یا باتیں کرنے کی عادت رکھتے ہیں انہیں یہ مسئلہ زیادہ درپیش ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اساتذہ، وکلاء اور کال سینٹرز میں کام کرنے والوں کو اس چیز کا بخوبی خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد پانی پیتے رہیں تاکہ ان کا منہ خشک نہ ہو اور وہ منہ سے بو آنے کی وجہ سے ناپسندیدہ نہ قرار پائیں۔

کاموں کی زیادتی
دفتر یا گھریلو کام کاج کے دوران پیدا ہونے والا ذہنی دباؤ منہ کی جلد خشک کردیتا ہے۔ بلغاریہ کی صوفیہ میڈیکل یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق سے پتہ چلا کہ ذہن پر پڑںے والے دباؤ سے بیکٹیریاز کو منہ میں نشو نما پانے میں مدد ملتی ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ کام کی زیادتی ہو یا کمی، منہ کی صفائی بالخصوص دانتوں میں برش کرنا ہر گز نہ بھولیں۔

کھانا چھوڑ دینا
وقت پر ناشتہ اور کھانا نہ لینے سے انسان کی قوت مدافعت میں کمی واقع ہوتی ہے اسی کے سبب بیکٹیریا کی تعداد بڑھتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کی برن یونیورسٹی کے ڈینٹل کلینک کا موقف ہے کہ کھانا کھانے کے ڈھائی گھنٹے بعد تک منہ سے بدبو آنے کی شکایت نہیں ہوتی اور اگر کھانے میں ریشے والی غذائی اشیاء کا استعمال کیا جائے تو اس وقت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.