ناک کی بناوٹ کا راز جانیئے

انتظار فرمائیں۔۔۔

ہم میں سے اکثر لوگوں کی آنکھیں، ناک، کان، ہونٹ غرض کہ مکمل چہرہ ہی خاندان کے کسی فرد بالخصوص والدین سے میل کھاتا ہے۔ لوگ یہی خیال کرتے ہیں کہ اس کی وجہ ماں اور باپ سے بچے میں منتقل ہونے والے جینز ہیں لیکن تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ چہرے بالخصوص ناک کی بناوٹ کے پیچھے صرف جینز ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔

پلاس جینیٹکس نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق والدین کے جینز کے علاوہ علاقائی موسم میں تبدیلیاں بھی ناک کی بناوٹ میں رد و بدل کرتی ہیں۔ عالمی محققین کی ٹیم میں شامل ڈاکٹر مارک شریور نے کہا کہ ہم نے مختلف علاقوں اور جغرفیائی خطوں میں رہنے والوں کا موسمی درجہ حرارت اور نمی کے حوالے سے جائزہ لیا۔ اس دوران جدید طریقہ استعمال کرتے ہوئے ناک کی پیمائش کی گئی اور نتھنوں کی چوڑائی اور درمیانی فاصلے کے علاوہ ناک کی اونچائی کا بھی بغور معائنہ کیا گیا۔

اس تحقیق سے اندازہ ہوا کہ انسانی ناک کی بناوٹ میں مختلف جینیاتی عوامل کے علاوہ قدرت کا بھی عمل دخل موجود ہے۔ علاقائی موسم کے باعث نتھنوں کی چوڑائی اور درمیانی فاصلے میں کمی بیشی کو ظاہر کرنے کے لیے محققین نے علاقائی درجہ حرارت اور نمی کے تناسب کے اعتبار سے مختلف پیمائشیں سامنے رکھیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ درجہ حرارت اور نمی کے باعث ناک کی چوڑائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں زمین کے گرم حصوں میں رہنے والے لوگوں کی ناک چوڑائی میں زیادہ ہوتی ہے جبکہ ٹھنڈے علاقوں میں رہنے والوں کی ناک پتلی اور لمبی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر مارک شریور نے بتایا کہ 19ویں صدی میں آرتھر تھامسن نے بھی یہی خیال پیش کیا تھا کہ سرد اور خشک علاقوں میں رہنے والوں کی ناک پتلی و لمبی جبکہ گرم اور نمی والے خطوں کے رہائشیوں کی ناک چھوٹی و موٹی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کئی مرتبہ اس بات کو ثابت کرنی کی کوشش کی گئی تاہم اس تحقیق سے قبل کوئی بھی اسے پیمائش کے ساتھ درست ثابت نہ کرسکا۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.