امریکا نے ہلاکت خیز حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

انتظار فرمائیں۔۔۔

چند روز قبل عراقی شہر موصل پر ہونے والے فضائی حملے کی ذمہ داری امریکا نے قبول کرلی ہے۔ اس حملے میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ داعش کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔

امریکا کی جانب سے یہ بتانے سے گریز کیا جارہا ہے کہ اس حملے میں کتنے شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ 17 مارچ کو کیے جانے والے فضائی حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس سے قبل امریکا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ موصل پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے کے پیچھے امریکی افواج کا ہاتھ ہونے تصدیق نہیں کی جاسکتی۔

امریکی اتحادی افواج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ عراقی افواج کی درخواست پر کیا گیا۔ عراقی افواج کی جانب سے اطلاع دی گئی تھی کہ اس مقام پر داعش کے عسکریت پسند بڑی تعداد میں اسلحہ و بارود کے ہمراہ موجود ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی اتحادی افواج عراق کے شہر موصل کے مغربی حصے کو داعش کے قبضے سے چھڑانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اتحادی افواج نے کہا ہے کہ وہ معصوم شہریوں کی ہلاکت سے متعلق لگائے جانے والے الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس حوالے سے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جو واقعے سے پہلے اور بعد کے حقائق کو مدنظر رکھ کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

امریکی اتحادی افواج کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت عام شہریوں کو ہدف نہیں بناتے تاہم عراقی افواج کی درخواست کر رد کرنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اعلامیے میں داعش پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ انسانی ڈھال کا استعمال کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ فضائی حملوں میں تعلیمی ادارے، اسپتال، مذہبی عبادت گاہیں اور دیگر شہری اجتماعات نشانہ بن جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ عراق کے مذہبی رہنماؤں کی جانب سے امریکی اتحادی افواج کی کاروائیوں اور ان میں عام شہریوں کی ہلاکت پر شدید تحفظات کا اظہار کی جاچکا ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق 17 مارچ سے قبل 13 مارچ کو بھی شہری علاقے پر فضائی حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں درجنوں شہری ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے تھے۔ عراقی وزارت دفاع نے ان واقعات پر کسی تبصرے سے انکار کردیا ہے۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.