کتیا کے منہ پر ٹیپ لگانے والے کو 5 سال کی سزا

انتظار فرمائیں۔۔۔

جنوبی کیرولینا کے ایک شخص کو کتیا کے منہ پر ٹیپ لگانے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ ریاست میں جانوروں پر ظلم کرنے والے شخص کو دی جانے والی سخت ترین سزا ہے۔

شمالی کیرولینا سے تعلق رکھنے والے ولیم ڈوڈسن کو کئی ماہ قبل بزور طاقت ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے کے جرم میں 15 سال کی سزا بھی دی جاچکی ہے۔ اس واقعے کے بعد ولیم کے پالتو کتیا کیٹلائن کو انتہائی لاغر حالت میں پایا کیا گیا جس کا منہ ٹیپ سے بند تھا۔

43 سالہ ولیم کی درخواست پر عدالت نے دونوں مقدموں کی سزا بیک وقت جاری رکھنے کا حکم دیا۔ وفاقی عدالت کے جج مارکلے ڈینس نے کہا کہ وہ انہیں مزید سخت سزا دینا چاہتے تھے تاہم شرمساری کے اظہار پر وہ ایسا نہیں کر رہے۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک کارکن ایڈون رومن نے وفاقی عدالت کی جانب سے دی گئی سزا پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جانوروں پر ظلم کرنے والوں کے لیے ایک بدترین مثال قائم ہوگی۔

ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے والے واقعے کے بعد ولیم کو ضمانت پر چھوڑ دیا گیا تھا تاہم اس نے پالتو کتیا کو گھر کے باہر باندھ رکھا اور اس کے منہ پر ٹیپ لگادی تاکہ وہ بھونک سکے اور نہ ہی کھا پی سکے۔ پالتو کتا کسی طرح وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تاہم منہ پر لگے ٹیپ کو ہٹانے میں ناکامی کے باعث شدید لاغر حالت میں سڑک کنارے بے سدھ جا گری۔

ایڈون رومن بتاتے ہیں کہ پالتو کتیا 36 گھنٹوں سے بھوکی تھی اور اس کے منہ سے خون ٹپک رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر پالتو کتیا کی تصویر ظاہر ہونے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں اس کتیا کے کئی آپریشن کیے گئے جس میں زبان کا ایک حصہ بھی ضائع ہوگا تاہم اس کی جان بچا لی گئی۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.