4 عجیب حرکتیں جو اصل میں عجیب نہیں

انتظار فرمائیں۔۔۔

اگر دوسرے آپ کی کسی حرکت کو عجیب قرار دیتے ہیں تو ضروری نہیں کہ وہ واقعی عجیب ہوں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اکثر لوگ دوسروں کے خوف سے تنہائی میں جو حرکتیں کرتے ہیں وہ درحقیقت عجیب نہیں ہوتیں اور ہم میں سے کئی لوگ کبھی نہ کبھی یہ حرکات کرتے ہیں۔ ان میں اپنی تصویر خود لینے (سیلفی) سے لے کر خود کلامی اور خیالی پلاؤ تک بہت کچھ شامل ہے۔ آئیے ایسی ہی چند حرکتوں کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہیں۔

اکیلے میں سیلفی لینا
دوستوں کے ساتھ، کسی معروف مقام پر یا نئے کپڑوں کے ساتھ تو سب ہی سیلفی لیتے ہیں لیکن اگر آپ کنگھا کرنے کے بعد باتھ روم میں سیلفی لیتے ہیں تو کیا یہ عجیب ہے؟ ایسا ضروری نہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ تنہائی میں سیلفی لینے اور پھر انہیں مختلف فلٹرز لگا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا بہت عام سی بات ہے اور لوگ اس کے ذریعے بہت سے "لائکس" اور "فالوؤرز" لینا چاہتے ہیں۔ البتہ ماہرین یہ تنبیہ کرتے ہیں کہ یہ حرکت کرتے ہوئے بنیادی اخلاقیات کا خیال رکھنا چاہیے ورنہ آپ شدید تنقید کی زد میں آکر مختلف مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔

selfie

خود کو تلاش کرنا
کیا آپ نے کبھی خود کو ہی سرچ انجن کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش کی؟ اگر ہاں تو ایسا کرنے والے آپ اکیلے نہیں بلکہ ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ انٹرنیٹ صارفین کی نصف تعداد گوگل کے ذریعے اپنے بارے میں تلاش کرتی رہی ہے۔ دراصل لوگ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر ان کے بارے میں کیا کچھ موجود ہے۔ لیکن کیا یہ عادت عجیب نہیں؟ اس کا جواب ہاں بھی ہے اور نا بھی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ خود کو گوگل کرنے میں ویسے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن جو لوگ کسی حادثے سے گزرے ہوں، وہ اگر ایسا کریں تو ان کے زخم تازہ ہوسکتے ہیں۔

google

جاگتے میں خواب دیکھنا
بہت سے لوگ جب اپنی آنے والی کامیابیوں کی کہانیاں دوسروں کو سناتے ہیں تو کوئی بھی ان پر یقین نہیں کرتا۔ شاید وہ غلط نہیں لیکن جاگتے میں خواب دیکھنا بھی بری بات نہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ لوگ اکثر اپنے کاموں کے دوران بیٹھے بیٹھے خوابوں کی نگری میں سیر کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ گو کہ یہ سفر چند ہی منٹ کا ہوتا ہے لیکن اس سے ان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے درکار جوش اور ولولے میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یوں وہ زیادہ بہتر انداز سے اپنا کام انجام دیتے ہیں اور اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کر کے ہی دم لیتے ہیں۔

daydreaming

خود سے باتیں کرنا
جاگتے میں خواب دیکھنے کی طرح خود سے باتیں کرنا یعنی خود کلامی بھی آپ کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے بشرطیکہ آپ خود کو لعنت ملامت نہ کرتے ہوں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ خود سے باتیں کر کے آپ روز مرہ امور کی انجام دہی بہتر طور پر کرنے کے علاوہ چیزوں کو رکھ کر بھول جانے کی عادت پر قابو پاسکتے ہیں۔ ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگ کبھی نہ کبھی خود کلامی کی کیفیت سے ضرور گزرتے ہیں۔ اگر پھر بھی کوئی اس عادت کو عجیب خیال کرتا ہے تو وہ غلط ہے۔ یہ حرکت اس کیفیت سے بہتر ہے کہ جس میں آپ تنہائی کا شکار ہو کر بیمار پڑسکتے ہیں۔

talking-yourself
loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.