مسلم خاتون کی تصویر کا دوسرا اور سچا رخ

انتظار فرمائیں۔۔۔

لندن میں ہونے والے افسوس ناک واقعے کے بعد اسلام دشمن عناصر کو ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کے خلاف سرگرم ہونے کا موقع فراہم کردیا گیا ہے۔ اس کی ایک مثال سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر سی لی جاسکتی ہے جسے مسلمانوں کی سنگدلی اور لاپرواہی کا نمونہ ثابت کرتے ہوئے پھیلا جارہا ہے۔

یہ تصویر ایک برطانوی خاتون کی ہے جو خاکی اسکارف اور بھورے رنگ کا کوٹ زیب تین کیے ہوئے ہیں۔ مکمل سر اور جسم کو ڈھاپنے کی وجہ سے ان خاتون کو مسلمان تصور کیا جارہا ہے۔ یہ خاتون اسی ویسٹ منسٹر برج سے گزر رہی ہیں جس پر پچھلے دنوں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا۔ اس تصویر میں ایک زخمی کو طبی امداد دی جارہی ہے جبکہ مسلمان خاتون عجیب تاثرات کے ساتھ وہاں سے گزر رہی ہیں۔

3e8e482b00000578-4345414-image-a-5_1490362571628

خاتون کے تاثرات کو مسلمان مخالف عناصر نے انتہائی غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے گمان کیا ہے کہ وہ اس واقعے سے مکمل لاپرواہی برتتے ہوئے اپنے فون پر محو گفتگو ہیں۔ خاتون، مسلمان اور اسلام کے خلاف شدید نفرت انگیز پیغامات سامنے آنے کے بعد تصویر کھینچنے والے فوٹو گرافر نے حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ خاتون لاپرواہ نہیں بلکہ خوفزدہ ہیں۔

غیر ملکی اخبار سے بات کرتے ہوئے 28 سالہ فوٹو گرافر جیمی لوریمین نے کہا کہ وہ برج کے نیچے پارلیمنٹ کی تصویریں لے رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر کنارے پر موجود زخمی کو دی جانے والی امدادی کاروائیوں پر پڑی۔ انہوں نے کہا کہ وہاں سے درجنوں لوگ گزر رہے تھے اور انہی میں سے ایک یہ خاتون بھی تھیں۔ جیمی نے بتایا کہ خاتون برج کے اس حصے کی طرف سے آرہی تھیں کہ جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی جارہی تھی اور یہی وجہ ہے کہ ان کے چہرے پر خوف اور صدمے کے تاثرات موجود تھے۔

جیمی لوریمین نے بتایا کہ انہوں نے برج پر زخمی خاتون کو طبی امداد دیئے جانے کے دوران تین تصاویر لیں اور تینوں ہی میں اسکارف والی خاتون کا خوفزدہ چہرہ دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خاتون کو دور تک جاتے ہوئے دیکھتے رہے اور خاتون کی چال سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ جیسے تیسے اس مقام سے دور ہوجانا چاہتی ہیں۔

mg_westminster_muslimwoman_distress1

اس تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹیکساس لون اسٹار نامی ایک شدت پسند شخص نے ٹویٹ کیا کہ مسلمان خاتون دہشت گردی کے حملے سے لاپرواہ، ایک مرتے ہوئے آدمی کے پاس سے فون چیک کرتے ہوئے گزر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام کے ساتھ لندن کے لیے دعا کرنے اور اسلام پر پابندی سے متعلق ہیش ٹیگز بھی استعمال کیے۔

ٹویٹر کے کئی صارفین نے اس پر جوابی ٹویٹ کیا اور شدت پسند فرد کو کھری کھری سنائی۔ وکی فورسٹر نامی صارف نے کہا کہ تم ایک انتہائی غلیظ ذہنیت رکھنے والے فرد ہو اس لیے بہتر ہے کہ جس گندے تالاب سے آئے ہو واپس وہیں کھسک لو۔ ایک اور خاتون لیسا اسکاٹ نے تصویر میں نظر آنے والی مسلمان خاتون کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ سخت خوفزدہ نظر آرہی ہیں، جو کہ انہیں بھی چاہیے، اکثر برطانوی بھی اسی کیفیت کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ کیلی بلیک ویل نامی ٹویٹر صارف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تمہیں اس حقیقت کا علم نہیں کہ اس تصویر میں کیا کچھ ہورہا ہے اور اپنی مرضی سے جو چاہا تصور کرلیا۔

سوشل میڈیا کے دیگر کئی صارفین نے بھی مسلم خاتون کے چہرے پر خوف کے تاثرات محسوس کیے اور امکان ظاہر کیا کہ شاید یہ خاتون اپنے خاندان کو فون کے ذریعے اطلاع دینا چاہ رہی ہیں کہ وہ حملوں سے محفوظ ہیں۔

یاد رہے کہ برطانوی پارلیمان کے باہر ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے میں اب تک 5 برطانوی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ حملہ خالد مسعود نامی شخص نے کیا تھا۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.