سفید بالوں کی وجہ ذہنی تناؤ: حقیقت یا فسانہ؟

انتظار فرمائیں۔۔۔

صرف خواتین ہی نہیں بلکہ اب تو مرد حضرات بھی سر پر سفید بال اگ آنے کو پسند نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے سر پر کوئی ایک سفید بال بھی نظر آجائے تو آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور اس 'بیماری' کو بڑھنے سے روکنے کے لیے سو سو جتن کرتے ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سفید بال کوئی بیماری نہیں بلکہ جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ بالوں کا سفید ہونے کے پیچھے ذہنی تناؤ کار فرما ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ کے سر پر کوئی سفید بال نظر آجائے تو لوگوں کچھ یوں کہتے ہیں کہ "آپ کو ضروری کوئی پریشانی لاحق ہے"۔ ایسے میں آپ یہ جاننے کے لیے 'پریشانی' ہوجاتے ہیں کہ آخر آپ کو 'پریشان' کیا ہے؟

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین امراض جلد کہتے ہیں کہ ذہنی تناؤ کے باعث بالوں کے سفید ہوجانے کا خیال بالکل غلط ہے۔ نینا گوڈ بھی ان ماہرین میں سے ایک ہیں جو اس غلط فہمی کو دور کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ بالوں کا رنگ غائب ہوجانا دراصل جینیاتی تبدیلیوں کے باعث ہوتا ہے اور انہیں اپنے بس میں کرنا ممکن نہیں ہے۔

اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ بھئی سفید بالوں اور ذہنی تناؤ کے تعلق کی افواہ کس نے پھیلائی ہے؟ تو اس کا جواب ہے: چوہوں نے۔ سائنسدان اپنی تحقیقات کے لیے چوہوں کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سفید بالوں کی وجہ جاننے کے لیے بھی یہی طریقہ استعمال کیا گیا۔

سال 2011 میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ دعوی تک کیا گیا ہے کہ زیادہ عرصے تک ذہنی تناؤ برقرار رہے تو بالوں کو رنگنے والی جینیات ہی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس سے قبل 2009 میں ہونے والی تحقیق سے یہ پتہ چلا تھا کہ بالوں کے جھڑجانے کا تعلق ہماری عمر سے ہوتا ہے اور جیسے جیسے ہم بوڑھے ہوتے چلے جاتے ہیں ویسے ویسے بالوں کی مضبوطی اور انہیں رنگت دینے والی صلاحیت بھی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔

لیکن خوش قسمتی سے انسان اور چوہوں میں خدا نے کافی فرق رکھا ہے۔ اس لیے میلبرن یونیورسٹی میں امراض جلد کے پروفیسر روڈنی سنکلیئر کہتے ہیں کہ ذہنی تناؤ، کھانے پینے کی عادت یا پھر طرز زندگی کا بالوں کی سفیدی سے کوئی تعلق نہیں پایا گیا۔ تو اگر آپ سفید بالوں کے پیچھے چھپی پریشانی تلاش کرتے کرتے واقعی پریشان ہوگئے ہیں تو اب اپنی پریشانی بھگا ہی دیجیے۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.