دھمکیاں دینے والا اسرائیلی نوجوان گرفتار

انتظار فرمائیں۔۔۔

اسرائیلی پولیس نے 19 سالہ نوجوان کو گرفتار کرلیا ہے جو مبینہ طور مختلف تنظیموں اور اداروں کو دھمکی آمیز پیغامات بھیجنے میں ملوث ہے۔ اس نوجوان کا نام اب تک ظاہر نہیں کیا گیا تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ یہ نوجوان اسرائیل اور امریکا کی دہری شہریت رکھتا ہے۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی درخواست پر اسرائیلی پولیس ایک ماہ سے اس نوجوان کو تلاش کر رہی تھی۔ پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ اب تک اس نوجوان کے مقصد اور کسی بھی تنظیم سے تعلق کے بارے میں پتہ نہیں لگایا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان مختلف کمیونٹی سینٹرز کو بم دھماکے سے اڑانے کی دھمکی دے چکا ہے اور اس کے لیے وہ جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتا آرہا ہے تاکہ کوئی بھی فون کال یا پیغام ٹریس نہ کی جاسکے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ اس نوجوان نے امریکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی کئی اداروں کو دھمکی آمیز پیغامات بھیجے ہیں۔

اس نوجوان نے مبینہ طور پر ایک فضائی ادارے کو فون کر کے جہاز کے مسافروں کو بم سے اڑانے کی دھمکی بھی تھی۔ اس سے قبل جنوری میں وہ امریکا کے مختلف تعلیمی اداروں اور ثقافتی مرکز کو نقصان پہنچانے کے پیغام بھی ارسال کرچکا ہے۔ تاہم نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں کئی گئی فون کال نے اس نوجوان کا بھید کھول دیا۔ ان ممالک کے ماہرین کو کال ٹریس کرنے پر علم ہوا کہ وہ اسرائیل سے کی جارہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق نوجوان ایک بڑے انٹینے اور کمپیوٹر ہارڈویئر کی مدد سے نہ صرف اپنی کال ناقابل ٹریس بناتا تھا بلکہ اپنی آواز بھی تبدیل کر کے بات کیا کرتا تھا۔

حالیہ دنوں میں یہ دوسری گرفتاری ہے کہ جسے امریکا کو موصول ہونے والی دھمکیوں سے جوڑا جارہا ہے۔ اس سے قبل جوان تھامسن نامی صحافی کو پچھلے ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 8 مقامات کو بم دھماکے سے اڑانے کی دھمکی دی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جوان نے کچھ فون کالز اپنی سابق اہلیہ کے نام پر بھی کیں تھیں جس کا مقصد انہیں ہراساں کرنا اور ذہنی اذیت پہنچانا تھا۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.