پرکشش شخصیت کے مالک بنیں

انتظار فرمائیں۔۔۔

مرد ہو یا خواتین، ہر کوئی پرکشش شخصیت کا مالک بننا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ پرکشش نظر آنے کے شوقین کبھی نت نئے فیشن زدہ ملبوسات خریدنے کے لیے مہنگے شاپنگ مالز کی خاک چھان رہے ہوتے ہیں کبھی کسی پارلر میں خود کو سنوارنے کی کوشش میں نہ جانے کیا کچھ منہ پر لگائے بیٹھے نظر جاتے ہیں۔ اب ان جوشیلے ذہنوں کو کون سمجھائے سادگی ہی میں خوبصورتی ہے اور ضروری نہیں کہ جو چیز خواتین کو پرکشش بناتی ہو بالکل وہی چیز مردوں کے لیے بھی موزوں ہو۔ ذیل میں چند تجاویز پیش خدمت ہیں جن پر عمل کرنا بہت ہی آسان اور فوائد بے شمار ہیں۔

مسکرائیں
پرکشش نظر آنے کے لیے آپ کو اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو استعمال کرنا ہوگا اور اس ضمن میں سب سے پہلا اور آسان ترین کام مسکرانا ہے۔ لوگوں سے مسکرا کر ملنا انہیں خوشگوار احساس دیتا ہے۔ البتہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ زیادہ مسکرانے والی خواتین پرکشش نظر آتی ہیں لیکن مردوں کے لیے یہ اصول یکسر مختلف ہے۔ اس لیے مردوں کو بردباری اور سنجدیگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور زیادہ دانت نکالنے سے پرہیز کرنے چاہیئں کیوں کہ یہی چیز انہیں زیادہ ذمہ دار اور نتیجتاً پرکشش بناتی ہے۔

آواز اور لہجہ
جب کوئی آپ کی طرف دیکھ ہی نہیں رہا تو پھر زیادہ یا کم مسکرانہ بے معنی ہوجاتا ہے۔ ایسے میں آپ اپنی آواز سے دوسروں کی توجہ باآسانی حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی پرکشش شخصیت نظر آنے کے خواہشمند مرد اور خواتین دونوں کے لیے مختلف اصول ہے۔ برطانیہ میں ہونے والی تحقیق سے علم ہوا کہ زیادہ اونچا بولنے والی خواتین کو حوصلہ مند سمجھا جاتا ہے جبکہ دھیمے لہجے والے مرد حضرات کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ اس لیے اگر آپ خاتون ہیں تو اپنی آواز اونچی رکھ سکتی ہیں (اتنی اونچی نہیں کہ جتنی ساس کے سامنے ہوتی ہے) لیکن اگر آپ مرد ہیں تو دھیما لہجہ اپنا کر دوسروں کی نظر میں عزت حاصل کرسکتے ہیں (سوائے اپنی بیگم کے)۔

حس مزاح
ہنسنا کسے نہیں بھاتا؟ سبھی چھوٹے موٹے چٹکلوں پر کھل کھلانا پسند کرتے ہیں۔ اس بارے میں ہونے والی تحقیق سے پتہ چکا ہے کہ خوشگوار زندگی کے لیے حس مزاح کی بڑی اہمیت ہے۔ البتہ ایک اور تحقیق بتاتی ہے کہ حس مزاح رکھنے والے مرد زیادہ پسند کیے جاتے ہیں جبکہ خواتین میں یہ حس زیادہ سراہی نہیں جاتی۔ آپ چاہیں مرد ہوں یا خاتون، آپ کی حس مزاح اسی وقت داد پائے گی کہ جب وہ منفرد ہو اور دوسروں کو قہقہ لگانے پر مجبور کردے۔ یقین نہ آئے تو حلقہ احباب میں ایک مرتبہ اس پر عمل کر کے دیکھیں، پھر بتائیے گا کہ لوگ آپ کو یاد کرتے ہیں یا نہیں۔

رحم دلی
لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ خوبصورت ہوں، اچھی باتیں بناتے ہوں یا پھر آپ کے پاس بہت بڑی جاگیر ہو۔ اصل چیز تو دوسروں کے ساتھ جذباتی تعلق قائم کرنے کی ہے جسے آپ رحم دلی اور بھائی چارے سے بخوبی بناسکتے ہیں۔ اس حوالے سے ہونے والی ایک دلچسپ تحقیق سے پتہ چلا کہ لوگ صرف ظاہری شکل و صورت ہی کی وجہ سے دوسروں کو یاد نہیں کرتے بلکہ مشکل وقت میں ساتھ دینے والے دوست و احباب کو بھی کبھی نہیں بھولتے۔ اس تحقیق کے نتائج سے یہ بھی پتہ چلا کہ لوگ خوب صورت سے زیادہ خوب سیرت انسان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.