امریکی اتحادیوں کی بمباری سے 33 افراد جاں بحق

انتظار فرمائیں۔۔۔

شام کے شہر رقہ میں امریکی اتحادی افواج کی بمباری سے اسکول تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 33 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ مقامی افراد نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسکول کے ملبے سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ تباہ ہونے والے اسکول میں منصورہ سے تعلق رکھنے والے 50 خاندان پناہ لیے ہوئے تھے۔

خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اتحادی افواج نے اسکول کو داعش کا مرکز سمجھ کر نشانہ بنایا ہے جبکہ شام میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک ادارے کا کہنا ہے کہ داعش کا مرکز حملے کے مقام سے دو میل دور واقع ہے۔

داعش مخالف گروپ کے ایک کارکن نے بتایا کہ ملک بھر کے اسپتالوں کو کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑا گیا۔ انہوں نے کہا بین الاقوامی افواج بغیر کسی تمیز کے شہروں پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے بعد شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ جمعرات کی شام حلب کی حدود سے باہر واقع ایک مسجد کو بھی فضائی بمباری سے شہید کردیا گیا تھا۔ اس حملے میں کم و بیش 46 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ اسے گزشتہ دو سالوں کے دوران اتحادی افواج کے ہاتھوں ہونے والی سب سے ہلاکت خیز کاروائی قرار دیا جارہا ہے۔

اتحادی افواج نے اس حملے سے متعلق کہا کہ ان کا ہدف مسجد کے قریب واقع ایک عمارت تھی جہاں اطلاعات کے مطابق القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکری رہنماؤں کی ملاقات ہونا تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اتحادی افواج نے دعوی کیا تھا کہ شام اور عراق میں شہریوں کی نادنستہ ہلاکتوں کی تعداد 220 ہے جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ داعش مخالف فضائی حملوں کے اعداد و شمار پر نظر رکھنے والے برطانوی ادارے ایئروارز کا کہنا ہے کہ صرف مارچ کے پہلے ہفتے میں اتحادی افواج کے ہاتھوں 370 عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.