جڑواں بچوں کی معصوم شرارتیں کیمرے میں محفوظ

انتظار فرمائیں۔۔۔

بچے من کے سچے ہوتے ہیں۔ یہ جو چاہتے ہیں وہ کر گزرتے ہیں۔ ان میں غرض ہوتا ہے نہ کسی کا خوف۔ معصومیت کے پیکر ان بچوں کے دل میں جو سماتا ہے بس وہی ان کی حرکتوں میں نظر آتا ہے۔ کچھ ایسا ہی سبق جڑوں بچوں کے والدین کو ملا جنہوں نے حفاظت کی غرض سے بچوں کے کمرے میں خصوصی کیمرہ لگوایا اور انہیں اکیلا چھوڑ کر سونے چلے گئے۔ بس پھر اندھا کیا چاہے دو آنکھیں؟ شریروں کے تو جیسے پر نکل آئے۔

2 سالہ اینڈریو اور ریان نے پہلے اپنے بستروں سے باہر چھلانگ لگائی اور پھر پھر اندھیرے میں ہی ساری رات کھیلتے رہے۔ اس دوران انہوں نے کمرے کے تمام تکیوں کو جمع کر کے پہاڑی بنائی اور پھر اسے سر کیا۔ پھر دونوں بچوں نے مل کر جمناسٹک کا مظاہرہ کرنے کی کوشش میں ادھر ادھر لڑھکتے رہے۔ اس سے دل بھرا تو تکیوں کو واپس جگہ پر رکھ کر کمرے کی حالت سدھاری۔ مگر ابھی کافی وقت تھا کہ جو کاٹے نہیں کٹ رہا تھا۔ ایسے میں دونوں بھائی صوفے پر بیٹھ کر دیر تک گپ لگاتے رہے۔ افسوس کہ کیمرے کی ریکارڈنگ سے یہ نہیں پتہ چل سکا کہ وہ نواز شریف اور عمران خان کی چپقلش کے بارے میں بات کر رہے تھے یا پھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے آئندہ دورہ ویسٹ انڈیز پر۔

ایسے میں اچانک ان کے والد کمرے میں در آئے اور بچوں کو دوبارہ اپنے بستروں میں قید کیا، کمرے کی حالت سدھاری اور دونوں بچوں کو سونے کی ہدایت کر کے واپس چلے گئے۔ بچوں کی نیند تو جیسے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب تھی، انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے بستروں سے باہر چھلانگ لگائی اور ایک بار پھر۔۔۔ جو کچھ ہوا وہ آپ خود ہی دیکھ لیں!

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.