18 سال سے کم عمر 'کافی' سے پرہیز کریں

انتظار فرمائیں۔۔۔

یوں تو چائے اور کافی پینے کے لیے کوئی قانونی عمر متعین نہیں لیکن ماہر غذائیت کہتے ہیں کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

اینڈی بیلاٹی تحقیق کے شعبے سے وابستہ یہں۔ انہوں نے اس حوالے سے ہونے والی تحقیق کا جائزہ لیا اور بتایا کہ روزانہ کافی پینے والے کم عمر افراد کے دل اور دماغ پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ زیادہ رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو بچے کم عمری ہی میں کافی پینا شروع کردیتے ہیں انہیں بے چینی اور بے خوابی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کے علاوہ اینڈی نے بتایا کہ کافی میں شامل شکر کی مقدار بھی قابل توجہ مسئلہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی باور کروایا کہ کافی کے علاوہ دیگر مشروبات مثلاً چاکلیٹ، کریم اور کولڈ ڈرنک وغیرہ میں بھی شکر کی بہت زیادہ تعداد ملائی جاتی ہے جس سے کم عمری میں اجتناب کرنا چاہیے۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے ملائی والی کافی کا ذکر کیا جس میں لگ بھگ 64 گرام چینی شامل ہوتی ہے جبکہ اسی سائز کی چاکلیٹ میں یہ مقدار صرف 43 گرام ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں ہی چیزوں سے بہتر سادہ کافی پینا ہے جس میں شکر کی مقدار صفر ہو۔ اینڈی نے کہا کہ کم عمری میں اینرجی ڈرنکس بشمول کولڈ ڈرنگ کو بالکل بھی ہاتھ نہیں لگانا چاہیے کیوں کہ وقتی لذت فراہم کرنے والی یہ چیزیں زہر قاتل ثابت ہوسکتی ہیں۔

اس سے ایک بات تو یہ پتہ چلی کے سادہ کافی عمر کے کسی بھی حصہ میں پی جاسکتی ہے مگر اس سے مختلف فوائد حاصل ہونے کے دعوی جیسا کہ قد میں اضافہ یا وزن میں کمی وغیرہ بالکل بے بنیاد ہیں۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.