مردم شماری میں تیسری جنس کا خانہ بھی شامل ہوگا

انتظار فرمائیں۔۔۔

لاہور ہائی کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کے بعد پاکستان مارچ میں ہونے والی قومی مردم شماری میں خواجہ سراؤں کو بھی شامل کرے گا۔ 2017ء میں چھٹی مردم شماری ہوگی جو 19 سال کے طویل وقفے کے بعد ہونے والی اہم قومی سرگرمی ہے۔

عدالت کا فیصلہ گزشتہ سال نومبر میں دائر کی گئی ایک پٹیشن پر آیا جس میں ملک کے مظلوم خواجہ سرا طبقے کو تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

گو کہ ملک میں تیسری صنف کی تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں، لیکن اندازہ ہےکہ ان کی تعداد ایک سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے جن میں سے 70 ہزار تو صرف کراچی شہر میں ہیں۔

ملک میں خواجہ سرا برادری نے اس فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے انہیں معاشرے میں برابر کا مقام حاصل ہوگا۔

2012ء میں پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے خواجہ سراؤں کو بنیادی حقوق دینے کا اعلان کیا تھا جس میں جائیداد اور املاک رکھنے کا حق تک شامل تھا۔ 2011ء میں پاکستان نے خواجہ سراؤں کو ووٹ دینے کا حق بھی دیا تھا۔

ایک قدامت پسند معاشرے میں یہ اقدامات اس لیے قابل تحسین ہیں کیونکہ اس وقت امریکا سمیت کئی ایسے ترقی یافتہ ممالک ہیں کہ جہاں خواجہ سرا اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

برصغیر میں نیپال وہ پہلا ملک تھا جس نے قومی مردم شماری میں خواجہ سراؤں کو بھی شامل کیا۔ اسی سال یعنی 2011ء میں بھارت نے بھی یہ قدم اٹھایا تھا۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.