ماحول دوست توانائی کے لیے 163 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری

انتظار فرمائیں۔۔۔

متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کی بجلی کی آدھی ضرورت پوری کرنے کے لیے جدید ذرائع پر 600 ارب ڈالرز خرچ کرے گا۔

وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے "انرجی اسٹریٹجی 2050ء" کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا مقصد ماحولیاتی اہداف کو حاصل کرنا اور اقتصادی ضروریات میں توازن پیدا کرنا ہے۔"

متحدہ عرب امارات تیل برآمد کرنے والے اہم ممالک میں سے ایک ہے لیکن اس نے بجلی کی پیداوار کے لیے روایتی ایندھن پر انحصار کو کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا شروع کردیے ہیں جن میں نیوکلیئر تنصیبات کی تعمیر بھی شامل ہے۔

عرب امارات کے نائب صدر اور امارت دبئی کے حاکم شیخ محمد بن راشد کا کہنا ہے کہ 2050ء تک ملک کی توانائی پیداوار کا 44 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع پر مشتمل ہوگا، 38 فیصد گیس، 12 فیصد صاف روایتی ایندھن اور چھ فیصد نیوکلیئر توانائی پر۔ "مقصد صاف توانائی کے حصے کو 50 فیصد تک پہنچانا ہے۔"

جون میں دبئی نے 2030ء تک ایک ہزار میگاواٹ کے سولر پلانٹ کی تعمیر کا منصوبہ ظاہر کیا تھا۔ اسی سال میں امارات کا ارادہ اپنی 25 فیصد بجلی کی ضروریات ماحول دوست ذرائع سے مکمل کرنا ہے۔

جنوبی کوریا کے ادارے ابوظہبی کے مغرب میں چار نیوکلیئر ری ایکٹرز کی تعمیر کا کام کر رہے ہیں جو 2020ء تک 1400 میگاواٹ بجلی پیدا کریں گے۔

عرب امارات روزانہ 2.99 ملین بیرل تیل پیدا کرتا ہے جس میں سے 2.44 ملین بیرل وہ برآمد کر دیتا ہے۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.