سعودی عرب، تفریحی صنعت پر عاید سختیاں نرم پڑنے لگیں

انتظار فرمائیں۔۔۔

’’ ویژن 2030ء‘‘ کے تحت تیل کی قیمتیں کم ہونے کے بعد ملک کو ترقی دینے کی کوشش میں سعودی حکومت نے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری یا تفریحی صنعت پر عاید پابندیوں کو نرم کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سعودی حکومت افرادی قوت کے اعتبار سے خواتین کے کردار کو بھی نئی شکل دے رہی ہے اور تفریح و طبع کی صنعت سے وابستہ افراد کی اپنے پروگرامز کے انعقاد کے لیے حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے۔

معروف جریدے، بلومبرگ کے مطابق، رواں ماہ کے آغاز ہی میں سعودی حکومت نے مختلف کمیٹیوں کے اختیارات کم کرنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق، اب مذہبی پولیس زیادہ عرصے تک خلاف ورزی کرنے والے افراد کا تعاقب اور انہیں گرفتار یا ان سے ان کی شناخت نہیں پوچھ سکے گی۔ بلومبرگ نے اسے ایک ایسے ملک میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے کہ جہاں کے باشندوں کو تفریح طبع کے لیے دبئی اور بحرین جاتے وقت مذہبی حکام گاڑی میں بجنے والی موسیقی بند کرنے کا حکم دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ خوف زدہ ہیں۔

پابندیوں کی وجہ سے ملک میں اپنے فن کا مظاہرہ نہ کرنے والے سعودی فن کاروں کے لیے دبئی پسندیدہ مقام ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب گزشتہ برس مارچ میں ایک مشہور سعودی موسیقار، عبدالمجید عبداللہ نے اس شہر میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا، تو اس شو کے ٹکٹ خریدنے والے زیادہ تر سعودی باشندے تھے۔

گزشتہ برس جنوری میں ریاض سے باہر واقع ایک صحرا میں کینیڈین کامیڈین، رسل پیٹرز کے شو کا انعقاد کرنے والے منتظمین کو ایک خیمے میں مردوں اور خواتین کو الگ الگ بٹھانا پڑا۔ اس ایونٹ کے بارے میں مروا یٰسین اور اس کی سہیلیوں نے ’’بلومبرگ‘‘ کو بتایا کہ’’ ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ ہم ایک حقیقی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ہم ایک ساتھ بیٹھیں اور ایک ساتھ ہی قہقہے لگائے۔ جب یہ شو ختم ہوا، تو ہم سب برگر اور دوسری کھانے پینے کی اشیا خریدنے کے لیے سردی میں ایک قطار بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ‘‘

لیکن اب سعودی حکام ملک کے بڑے شہروں میں تفریحی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔ تاحال سعودی حکام نے ریاض میں صرف مردوں اور بچوں کے لیے ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ، موٹر اسپورٹس اور میوزک شو کے انعقاد کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان شوز کا انعقاد جدہ سے باہر کیا جائے گا اور ان میں تقریباً 6ہزار تماشائیوں کی آمد متوقع ہے۔

اس کے علاوہ ’’ سی ورلڈ پارکس اینڈ انٹرٹینمنٹ‘‘ بھی اس سعودی منصوبے میں دلچسپی لے رہی ہے اور ’’سکس فلیگز‘‘ بھی سعودی عرب میں ایک تھیم پارک کھولنے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ اس بارے میں ’’سکس فلیگ‘‘ کے چیئرمین، جیمز ریڈ کا کہنا ہے کہ اس پارک کی تعمیر پر 50کروڑ ڈالرز کی لاگت آئے گی۔‘‘

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.