دو صدی قدیم حنوط شدہ بھکشو کے زندہ ہونے کا دعویٰ

انتظار فرمائیں۔۔۔

بھارتی اخبار، ٹائمز آف انڈیا کے مطابق،بودھ مت بھکشوئوں نے دعویٰ کیا ہے کہ منگولیا میں کنول کی شکل میں موجود حنوط شدہ بودھ مت بھکشو مردہ نہیں ہے اور حقیقی بدھا بننے سے صرف ایک مرحلے کی دوری پر ہے۔ حنوط شدہ بھکشو کی باقیات کا فارنسک معائنہ کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس کے جسم کو آج سے 200برس قبل جانور کی کھال سے محفوظ کیا گیا تھا۔ بھکشو کا معائنہ کرنے والے ایک ماہر کا اس بات پر اصرار ہے کہ یہ انسانی کھنڈر حقیقت میں نہایت گہرے گیان میں مصروف ہے اور اس کی موجودہ خصوصی روحانی حالت کو ’’ تکدام‘‘ کہا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ گزشتہ 50برسوںکےدوران بھارت میں ایسے 40تبتی بھکشو سامنے آئے ہیں۔ اس بارے میں مشہور بودھ مت بھکشو اور دلائی لامہ کے معالج، ڈاکٹر بیری کرزن کا کہنا ہے کہ ’’ مجھے بعض ایسے بھکشوئوں کے علاج کا اختیار حاصل ہے کہ جو اسی حالت میں پائے گئے۔ اگر کوئی شخص تین ہفتوں تک اسی حالت میں رہے، حالانکہ ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ہے، تو اس کی جسم بتدریج سکڑنا شروع ہو جاتا ہے اور آخر میں صرف اس کے بال، ناخن اور کپڑے ہی بچتے ہیں۔ عموماً ایسے میں بھکشو کے قریب رہنے والے افراد کو چند روز کے لیے آسمان پر ایک قوس قزح چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس شخص کو ’’ قوس قزح کا جسم‘‘ مل گیا ہے اور یہ بدھا کی قریب ترین حالت ہوتی ہے اور اگر وہ شخص اس کے بعد بھی اسی حالت میں رہے، تو وہ بدھا بن سکتا ہے۔ اس روحانی حالت میں پہنچنے کے بعد یہ بھکشو دوسروں کی مدد کر سکتا ہے اور اس کے ارد گرد موجود افراد کو مسرت کا احساس ہوتا ہے۔‘‘

ابتدائی طور پر یہ قیاس جاتا ہے کہ یہ حنوط شدہ بھکشو لاما داشی ڈورژو کا استاد ہو سکتا ہے۔ 1852ء میں پیدا ہونے والا داشی ڈورژو تبت کابودھ مت لاما تھا، جو مرنے کے بعد اپنی زندہ انسان نما جسمانی حالت کی وجہ سے مشہور ہے۔

اس بارے میں اولان باتار بدھسٹ یونیورسٹی کے شعبہ منگولین انسٹی ٹیوٹ آف بدھسٹ آرٹ کے بانی اور پروفیسر، گان ہوگین پروباتا کا کہنا ہے کہ ’’ یہ لاما کنول کے پھول کی شکل میں بیٹھا ہوا ہے۔ اس کا بائیاں ہاتھ کھلا ہوا ہے اور دائیاں ہاتھ اس بات کی علامت ہے کہ وہ سوترا کی تبلیغ کر رہا ہے۔ نیز، یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ لاما کا انتقال نہیں ہوا اور بودھ مت لامائوں کی قدیم روایت کے مطابق وہ ابھی گہرے گیان میں مصروف ہے۔‘‘

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.