امریکا کا نیا ہتھیار، ننھے ڈرون

انتظار فرمائیں۔۔۔

امریکا کے پاس ڈرون ہیں اور بہت زیادہ ہیں۔ سینکڑوں چھوٹے ڈرون طیارے مل کر دشمن پر شہد کی مکھیوں کی طرح حملہ آور ہو سکتے ہیں اور ان کا تجربہ بھی امریکا نے کیا ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق امریکا نے چائنا لیک، کیلیفورنیا میں مائیکرو ڈرون ٹیکنالوجی کا کامیاب مظاہرہ کیا تھا۔ جس کے دوران تین ایف-18 طیاروں نے 100 سے زیادہ پرڈکس ڈرون طیارے فضا میں چھوڑے، جنہوں نے ایک فارمیشن میں پرواز کی۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کی پیچیدہ نوعیت کی وجہ سے پرڈکس کو پہلے سے انفرادی حیثیت میں پروگرام نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ مجموعی طور پر کام کرتے ہیں۔ فیصلہ سازی کے لیے یہ "مشترکہ دماغ" کا استعمال کرتے ہیں اور جتھے کی صورت میں حملہ آور ہوتے ہیں۔"

یہ ننھے ڈرون نچلی پرواز کرتے ہوئے جاسوسی کے وہ کام انجام دے سکتے ہیں جو بڑے ڈرون نہیں کر سکتے۔ یہ دشمن کے دفاعی نظام کو بھی دھوکا دے سکتے ہیں کیونکہ ان کی تعداد اور رفتار پر نظر رکھنا آسان نہیں۔

پہلی بار 2013ء میں میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں تیار ہونے والے یہ ڈرون مسلسل بہتر بنائے گئے ہیں اور پینٹاگون ان پر تجربات کرتا رہا ہے۔ اس وقت صرف ایک فٹ پھیلاؤ رکھنے والے یہ جہاز 40 سے 60 ناٹس کی رفتار کے ساتھ 20 منٹ تک اڑ سکتے ہیں۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.