بریسٹ کینسر کا علاج یا خواتین کی نسل کشی

انتظار فرمائیں۔۔۔

معروف خبر رساں ادارے، سی این این کے مطابق،’’ اینلز آف انٹرنل میڈیسن‘‘ میں گزشتہ روز شائع ہونے والی ڈینش اسٹڈی نے امریکا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایکسرے کے نتیجے میں تشخیص ہونے والے چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہر تیسری عورت کا غیر ضروری علاج کیا جاتا ہے، کیونکہ اسکریننگ ٹیسٹ سے پتہ چلا ہے کہ یہ رسولیاں اس قدر آہستگی سے بڑھتی ہیں کہ یہ بالکل بے ضرر ہوتی ہیں۔

اس بارے میں ’’امریکن کینسر سوسائٹی‘‘ کے چیف میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر اوٹس بریلے کا، جو اس اسٹڈی میں شامل نہیں رہے، لیکن انہوں نے ایڈیٹوریل لکھنے میں ساتھ دیا، کہنا ہے کہ ’’ اس اسٹڈی نے بے چینی پھیلا دی ہے کہ بعض خواتین جو یہ سمجھتی ہیں کہ چھاتی کے ایکسرے کی وجہ سے ان کی جان بچ گئی، دراصل انہیں کینسر اسکریننگ کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ اس کی وجہ سے انہیں سرجری، تاب کاری اور حتیٰ کہ کیموتھراپی کے عمل سے بھی گزرنا پڑا، جس کی انہیں ضرورت ہی نہیں تھی۔‘‘

ڈاکٹر بریلے کا مزید کہنا تھا کہ ماہرین کو پتہ چلا ہے کہ مائیکرو اسکوپ تلے ایک جیسی نظر آنے والی رسولیوں میں ایک جیسے خطرات موجود نہیں ہوتے۔ بعض رسولیاں ابتدا ہی میں خطرناک عفریت میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور کچھ بڑھنا رک جاتی ہیں یا پھر بالکل ہی ختم ہو جاتی ہیں، لیکن یہ فرض کر لینا کہ تمام چھاتی کی رسولیاں جان لیوا ثابت ہوں گی، نسلی بنیادوں پر کسی کو ہدف بنانے کے مترادف ہے۔ ہر قسم کے کینسر کا علاج کرتے ہوئے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہم جانوں کو بچا رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی ہم بعض ایسی خواتین کا علاج کر رہے ہوتے ہیں کہ جنہیں علاج کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔‘‘

اگر چہ’’دی امریکن کالج آف ریڈیولوجی‘‘ جو بریسٹ کینسر کی اسکریننگ یا چھان بین کا بڑا حمایتی ہے، اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ چھاتی کے ایکسرے کے نتیجے میں بعض خواتین کا غیر ضروری علاج کیا جاتا ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس نئی تحقیق کے مقابلے میں ایسے واقعات بہت کم ہوتے ہیں اور ڈنمارک ہی میں ہونے والی ایک اور تحقیق میں یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ صرف 2.3 فیصد مریضوں میں جان لیوا کینسر کی غلط تشخیص کی جاتی ہے۔

اس بارے میں ’’امریکن کالج آف ریڈیو لوجیز کمیشن آن بریسٹ امیجنگ‘‘ کی سربراہ، ڈاکٹر ڈیبرا مونٹی شیلو کا کہنا ہے کہ ’’ اس قسم کے مضامین زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوتے، کیونکہ ان کی وجہ سے خواتین اس کشمکش میں مبتلا ہو جاتی ہیں کہ وہ بریسٹ کینسر کا معائنہ کس طرح کروائیں۔‘‘

دوسری جانب ’’نیشنل بریسٹ کینسر کولیشن‘‘ نامی ایک گروپ کی صدر، فران وسکو کہتی ہیں کہ ’’ چھاتی کے کینسر کا غیر ضروری علاج خواتین کی صحت کو خطرات میں مبتلا کر سکتا ہے۔ تاب کاری کے نتیجے میں خواتین کا دل متاثر ہو سکتا ہے اور یہ نئے کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔‘‘

اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگہی کی مہم چلانے والی اور کولیشن کی سابق نائب صدر، کیرولینا ہائنس ٹروسا کی موت 50برس کی عمر میں ایک ایسی ضرررساں رسولی کے سبب ہوئی تھی کہ جوبریسٹ کینسر کے ابتدائی علاج ہی میں تاب کاری کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔‘‘

 

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.