مراکش ، برقعے کی تیاری و فروخت پر پابندی کی اطلاعات

انتظار فرمائیں۔۔۔

مراکش کے مقامی ذرائع ابلا غ کے مطابق، سیکورٹی وجوہ کی بنا پر ملک میں برقعے کی تیاری اور فروخت پر پابندی عاید کر دی گئی ہے۔ تاہم، ابھی تک شمالی افریقا کے اس ملک کے حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ، جبکہ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مراکشی وزارت داخلہ کے اس حکم نامے پر اسی ہفتے عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

خبر رساں ادارے، الجزیرہ کے مطابق، لی 360نامی نیوز ویب سائٹ نے مراکش کی وزارت داخلہ کے ایک اہم عہدے دار سے منسوب یہ بیان جاری کیا ہے کہ ’’ہم ملک کے تمام شہروں اور قصبات میں برقعے کی تیاری، درآمد اور مارکیٹنگ پر مکمل پابندی عاید کر رہے ہیں۔ یہ اقدام سیکورٹی وجوہ کی بنا پر کیا جا رہا ہے، کیونکہ ڈاکوئوں نے جرائم کے لیے ارتکاب کے لیے برقعے کا استعمال شروع کر دیا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ مراکش کے بادشاہ، محمد ششم جدید اسلام کے حق میں ہیں اور زیادہ تر مراکشی خواتین ہیڈ اسکارف پہننے کی ترجیح دیتی ہیں، جس میں ان کا چہرہ دکھائی دیتا ہے، جبکہ مراکش کے شمال میں واقع قدامت پسندوں کے علاقوں میں زیادہ تر خواتین نقاب پہنتی ہیں، جس میں صرف ان کی آنکھیں دکھائی دیتی ہیں اور اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے جہادی شام اور عراق منتقل ہوئے ہیں۔تاہم، اس پابندی کا اطلاق نقاب پر نہیں ہو گا۔

میڈیا 24نامی ویب سائٹ کے مطابق، مراکش کے معاشی مرکز، کاسا بلانکا کے بعض تجارتی اضلاع میں وزارت خارجہ کے حکام نے ایک آگہی مہم چلائی، جس میں تاجروں کو اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ بعض رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی مراکش کے علاقے، تارو دانت میں حکام نے تاجروں کو برقعے کی فروخت روکنے اور 48گھنٹوں کے دوران اسٹاک صاف کرنے کا حکم دیا، جبکہ بعض دیگر علاقوں میں بھی ری ٹیلرز کو کچھ اسی قسم کی ہدایات موصول ہوئی ہیں۔

اس بارے میں بعض ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کہیں مراکشی حکومت فرانس اور بیلجیم جیسے یورپی ممالک کی تقلید تو نہیں کر رہی کہ جہاں عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی عاید کر دی گئی ہے، جبکہ ملک میں موجود سلفیوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ آگے چل کر حکومت کی اس پابندی کی زد میں نقاب بھی آ سکتا ہے۔

اس بارے میں سلفی رہنما، شیخ حسن کیتانی نے فیس بک پر لکھا ہے کہ ’’ کیا مراکشی حکومت ایک ایسے نقاب پر پابندی لگانے جا رہی ہے کہ جو خواتین گزشتہ پانچ صدیوں سے پہن رہی ہیں؟ اگر یہ سچ ہے، تو یہ ایک بڑی تباہی ہو گی۔‘‘

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.