سرحدوں پر پہرہ دینے والے بھارتی اہلکاروں کی حالت زار

انتظار فرمائیں۔۔۔

بھارت میں بارڈر سکیورٹی فورس کے ایک اہلکار کی جانب سے جاری کی گئی وڈیو نے تہلکہ مچا دیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سخت ترین حالات میں 11 گھنٹے تک محاذ پر رہنے والے اہلکاروں کو کس طرح کا کھانا دیا جاتا ہے۔

4 منٹوں پر محیط تین مختلف وڈیوز میں 40 سالہ بی ایس ایف اہلکار تیج بہادر یادو کو دیکھا جا سکتا ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ 29 بٹالین سے تعلق رکھتا ہے۔ یادو نے اس ناکافی اور بے مزا خوراک کی وڈیو پیش کی ہے جو انتہائی سرد اور مشکل حالات میں گھنٹوں تک کھڑے ہوکر ڈیوٹی انجام دینے والے اہلکاروں کو دیا جاتا ہے۔

یادو کو یہ کہتے دیکھا جا سکتا ہے کہ "ہمیں صرف ایک 'پراٹھا' اور چائے ناشتے پر دی جاتی ہے جس کے ساتھ کوئی اچار یا سبزی نہیں ہوتی۔ دوپہر کے کھانے میں ہمیں روٹی کے ساتھ 'دال' ملتی ہے جس میں صرف ہلدی اور نمک ہوتا ہے۔ یہ وہ کھانا ہے جو ہمیں ملتا ہے جس کے بعد ہمیں 11 گھنٹے کھڑے ہو کر ڈیوٹی دینا ہوتی ہے۔ کوئی جوان یہ کھانا کھا کر کس طرح اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکتا ہے۔" انہوں نے کہا کہ حکومت ہند سب کچھ فراہم کرتی ہے لیکن سینئر عہدیدار اسے چوری کر لیتے ہیں۔ انہوں نے "بااثر" عہدیداران کے خلاف آواز اٹھانے پر اپنی زندگی کو خطرے سے دوچار قرار دیا۔

tb-yadav2

بارڈر سکیورٹی فورس نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ جوان 2010ء میں اپنے سینئر افسر کو دھمکانے کے بعد کورٹ مارشل کردیا گیا تھا۔ چار سال بعد اسے دوبارہ ذمہ داری دی گئی اور یہی وجہ ہے کہ اس نے یہ کہانی گھڑی ہے۔ البتہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.