شیشے سے بنا نایاب سکہ بھاری قیمت پر نیلام ہوگیا

انتظار فرمائیں۔۔۔

نایاب ترین شیشے کا سکہ جو دوسری جنگ عظیم کے دوران تانبے کی قلت کی وجہ سے بنایا گیا تھا، 70 ہزار امریکی ڈالرز کی بھاری بھرکم قیمت پر فروخت ہوا ہے۔

یہ تجرباتی سکہ 1942ء میں اس وقت تیار کیا گیا تھا جب امریکا نے پلاسٹک اور ربڑ جیسی چیزیں استعمال کرکے سکے بنانے کی کوشش کی تھی تاکہ تانبے کا استعمال اسلحے میں زیادہ سے زیادہ کیا جا سکے۔ انہی میں سے یہ سکے تھے جو مرکب شیشے سے بنائے گئے تھے، لیکن یہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ ایک تو نقش اچھا نہیں بنا، دوسرا ان کا وزن اور حجم یکساں نہیں تھا جبکہ ان کے کنارے بھی تیز تھے جس کی وجہ سے لوگوں کی انگلیاں کٹنے لگیں۔

سمجھا جاتا ہے کہ یہ بیشتر سکے تلف کردیے گئے تھے اور یہ واحد شیشے کا سکہ ہے جو اب تک سالم حالت میں موجود ہے۔ ایک اور ایسا ہی سکہ ہے لیکن وہ دو حصوں میں تقسیم ہے۔

سکہ گزشتہ سال اگست میں ایک چھوٹی سی نیلامی میں دریافت ہوا تھا اور سکوں کے ایک مورخ رابرٹ بورڈیٹ نے خریدا تھا۔ انہوں نے اس سکے کی تاریخ کے بارے میں جاننا چاہا لیکن یہ اب تک معلوم نہیں ہو سکا کہ گزشتہ 75 سالوں میں یہ سکہ کہاں رہا؟

فلوریڈا میں ہیریٹیج آکشنز میں نیلامی سے قبل اس کی قیمت کا اندازہ 30 ہزار ڈالرز تھا لیکن یہ دوگنی سے بھی زیادہ قیمت پر ساڑھے 70 ہزار ڈالرز میں نیلام ہوا۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.