برطانیہ کے جزیرے میں دو ہفتے بعد کرسمس منائی جاتی ہے

انتظار فرمائیں۔۔۔

برطانیہ سمیت دنیا بھر میں دو ہفتے قبل کرسمس منائے جانے کے بعد6جنوری کو برطانیہ کے ایک دور دراز جزیرے میں کرسمس منائی جا تی ہے۔ برطانوی اخبار، دی ٹیلی گراف کے مطابق، برطانیہ میں واقع شیٹ لینڈ کے فولا نامی جزیرے پر مقیم تقریباً 30باشندے جولینی کیلنڈر کے مطابق 6جنوری کو کرسمس مناتےہیں۔ خیال رہے کہ 1752ء میں گریگرین کیلنڈر اپنائے جانے سے قبل پورے برطانیہ میں اسی تاریخ کو کرسمس منائی جاتی تھی۔

1900ء میں لیپ ایئر کے بعد سے فولا کے مکین کرسمس اور نئے سال کا جشن بالترتیب 6جنوری اور 13جنوری کو مناتے ہیں، جو گریگرین کیلنڈر سے بارہ روز پیچھے ہے۔ کرسمس کے روز اس جزیرے پر رہنے والے تمام افراد ایک گھر میں جمع ہوتے ہیں، جہاں وہ تحائف کا تبادلہ کرتے اور گانے گاتے ہیں۔ ان افراد میں دس بچے بھی شامل ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق، اسکاٹ لینڈ کے شمالی علاقے، جون او گروٹس سے 200کلو میٹر دور واقع اس جزیرے کے مکین اب تک ناروے کی ثقافتی موسیقی، کھانوں اور لوک کہانیوں کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ ان افراد کے آبائو اجداد انیسویں صدی کے آغاز تک ’’نارن‘‘ زبان میں بات چیت کرتے تھے، جو ناروے کی پرانی زبان کی ایک قدیم شکل ہے۔

اس بارے میں ایک مقامی باشندے، اسٹوارٹ ٹیلر نے ’’مرر آن لائن‘‘ کو بتایا کہ ’’ جزیرے کے مکین گریگرین کیلنڈر سے پہلے سے ہی ان دنوں میں کرسمس اور سال نو کا جشن منا رہے ہیں۔ ہم منفرد لوگ نہیں ہیں، بلکہ روس سمیت دنیا کے دیگر مختلف حصوں میں بھی پرانے کیلنڈر کے مطابق کرسمس منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر تمام باشندے اپنے گھروں سے تحائف لے کر ایک گھر میں جمع ہو جاتے ہیں اور یہ روایت یہاں باقی رہے گی۔‘‘

دوسری جانب دنیا بھر میں آرتھوڈوکس عیسائی ، جن میں یونانی کیتھولک اور قبطی عیسائی شامل ہیں، 7جنوری کو کرسمس منا تے ہیں۔‘‘

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.