بچوں کو ناک میں انگلی ڈالنے سے کیسے روکیں؟

انتظار فرمائیں۔۔۔

انگوٹھا چوسنے سے لے کر ناخن چبانے تک بچوں کی کئی عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو وہ بڑے ہوتے ہوئے اختیار کرتے ہیں۔ ایسی تمام عادات میں جو سب سے قبیح ہے اور والدین کو سب سے زیادہ شرمندہ کرتی ہے وہ ہے ناک میں انگلی ڈالنا۔

بچے شیر خواری کے زمانے میں ہی اپنی ناک میں انگلی ڈالنا شروع کر دیتے ہیں اور جیسے ہی انگلیوں پر کنٹرول آ جاتا ہے تو وہ ہر اس جگہ پر انگلی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں وہ فٹ ہو سکتی ہے۔ یہ ان کے تجسس اور سیکھنے کے عمل کا عام حصہ ہے۔

بچہ ایسی کسی بھی عادت کو کیوں اپناتا ہے اور اسے کیسے روکا جا سکتا ہے، اس کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس نے یہ اختیار کیوں کی۔ ناک میں انگلی ڈالنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک بوریت یعنی اکتاہٹ، نیند کا غلبہ، آرام یا مقابلہ کرنا۔ عام طور پر یہ محض ایک مرحلہ ہوتا ہے اور بچہ بڑا ہوتے ہوئے اس عادت کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس لیے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اسے روکنے کے لیے والدین کچھ کر نہیں سکتے کیونکہ یہ بچپنے کی عادات کا عام حصہ ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ والدین اس رویے کو نظر انداز کریں اور اپنی پریشانی کو ظاہر نہ کریں کیونکہ اس سے کچھ خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے بہتر یہ ہے کہ چار، پانچ سال کی عمر کو پہنچنے پر اسے غسل خانے میں ناک صاف کرنا سکھایا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ جراثیم سے بچنے کے لیے ہاتھ کیسے صاف کیے جاتے ہیں۔

موسم کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔ خشک اور سرد موسم میں بچے اس عادت کو زیادہ اپناتے ہیں۔ اس لیے گھر کے اندر موسم کو مرطوب رکھیں تاکہ نتھنوں میں خشکی محسوس نہ ہو۔ ناک میں تیل یا پٹرولیم جیلی کا استعمال بھی مفید ہو سکتا ہے۔

loading ads...

Facebook Comments



Comments are closed.