فرانس میں "سولر روڈ" کا افتتاح

انتظار فرمائیں۔۔۔

فرانس کے علاقے نورمنڈی میں ایک گاؤں کی سڑک کا ایک کلومیٹر طویل حصہ مکمل طور پر سولر پینلز سے بنایا گیا ہے اور یہ اتنی بجلی پیدا کرے کے لیے کافی ہے کہ قصبے کی تمام اسٹریٹ لائٹیں جل سکیں۔ 30 ہزار مربع فٹ سولر پینلوں سے لیس یہ سڑک اتنی مضبوط ہے کہ بڑے ٹرکوں کا بوجھ بھی سہار سکتی ہے۔ فرانس کی وزیر ماحولیات سیولین رویال کو اس 'سولر روڈ' سے بڑی امیدیں ہیں اور وہ ملک کے 6 لاکھ 21 ہزار میل سڑکوں کے جال پر ہر ایک ہزار کلومیٹر کے بعد ایسے پینلوں کو استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔

بدقسمتی سے یہ عام خمدار پینلوں کے مقابلے میں بالکل چپٹے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کچھ کم توانائی پیدا کرتے ہیں اور ساتھ ہی مہنگے بھی ہیں۔ لیکن سولر پینل بنانے والے ادارے کولاس کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں اس کی قیمت کم ہو سکتی ہے۔ اس وقت شمسی توانائی کی سڑک کی قیمت 52 لاکھ ڈالرز ہے۔

اس سولر روڈ کو دو سالہ تجرباتی دور میں روزانہ 2 ہزار افراد استعمال کریں گے۔ منصوبہ کے مطابق یہ دیکھنا ہے کہ کیا یہ سڑک ساڑھے تین ہزار کی آبادی رکھنے والے قصبے کی تمام اسٹریٹ لائٹوں کو روشن رکھنے کے لیے کافی توانائی پیدا کرے گی۔

کولاس کے پاس 100 دیگر سولر روڈ منصوبے بھی ہیں جن میں سے نصف فرانس میں ہیں اور باقی دنیا کے دیگر حصوں میں۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.