ہیرے سے بھی زیادہ مضبوط ہیرا

انتظار فرمائیں۔۔۔

جب ہم مضبوط ترین چیز کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیشہ ذہن میں ہیرا آتا ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر دی جانے والی انگوٹھی کا حصہ بننے والا یہ پتھر فولاد کو بھی کاٹ سکتا ہے لیکن سائنس دان گزشتہ چند سالوں سے سخت ترین چیز بنانے میں مرحلہ وار کامیابی حاصل کر رہے ہیں اور اب آسٹریلیا میں ایک ٹیم نے ایسا انوکھا ہیرا تیار کرلیا ہے جو خود ہیرے سے زیادہ مضبوط ہے۔

یہ لونسڈیلیٹ کی ایک قسم ہے جو قدرتی طور پر مختلف شہابی پتھروں کے مرکز میں ملتا ہے۔ یہ بہت ہی خاص ہے کیونکہ زیادہ تر ہیرے مکعب شکل میں کاربن سے بنتے ہیں لیکن لونسڈیلیٹ مسدسی شکل کا ہے جو اسے عام ہیرے کے مطابق 58 فیصد زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ اب سائنس دان لونسڈیلیٹ کا نینو-اسکیل سطح کا ورژن تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ یہ قدرتی ہیرے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ٹیم کا کہنا ہے کہ اس کا فوری استعمال کانوں میں ہو سکتا ہے جہاں یہ انتہائی مضبوط چیزوں کو کاٹ سکتا ہے جس میں خود ہیرے بھی شامل ہیں۔

لونسڈیلیٹ پہلی بار 1967ء میں کینین ڈیابلو شہابیے میں دریافت ہوا تھا۔ اسے بنانے کے لیے 1000 درجہ سینٹی گریڈ کے زبردست درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے بنانے کی کئی کوششیں ناکام ہوئیں۔ اب ایک نئے طریقے سے اسے تیار کیا گیا ہے جو آپ اس وڈیو میں دیکھ سکتے ہیں:

جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ انہوں نے صرف 400 درجہ سینٹی گریڈ پر ہی نتیجہ حاصل کرلیا ہے جو پرانے طریقوں سے آدھے سے بھی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طریقہ زیادہ سستا اور موثر ہے کیونکہ اس کا نتیجہ زیادہ مضبوط ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کی مزید جانچ کر رہے ہیں کہ یہ کتنا مضبوط ہے اور اس سے کون سے کام لیے جا سکتے ہیں۔ لیکن ایک بات انہوں نے واضح طور پر کہی ہے کہ "یہ ہیرا کسی شادی کی انگوٹھی میں نہیں جائے گا۔"

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.