دودھ پلانے والی مائیں کیا کریں؟ کچھ احتیاطی تدابیر

انتظار فرمائیں۔۔۔

ماں کا دودھ بچوں کے لیے غذائیت سے بھرپور بہترین قدرتی غذا ہے، جس کا فائدہ بچے کو تاعمر ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے کچھ احتیاطیں ایسی ہیں جو ماں کو اختیار کرنا پڑتی ہیں تاکہ دودھ پوری توانائی کے ساتھ بچے کو ملتا رہے۔ گو کہ حمل کے دوران جتنی احتیاط اور خوراک پر پابندیاں ہوتی ہیں، بچے کی شیر خواری کے زمانے میں اس کی فہرست اتنی لمبی نہیں لیکن پھر بھی ماں کو بچے کی صحت کے لیے کچھ احتیاط کرنا پڑتی ہے۔ اس لیے یہ جاننا ہر دودھ پلاتی ماں کے لیے ضروری ہے کہ انہیں کون سی چیز سے مکمل پرہیز کرنا ہے، کس کو اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا ہے۔

چند صورتوں میں ہو سکتا ہے کہ بچہ اپنی ماں کی خوراک میں موجود کسی چیز کے حوالے سے حساس ہو، جسے ہم الرجی کہتے ہیں۔ یہ حساسیت بچوں میں پیٹ کے درد، بے وجہ رونے یا بدمزاجی کی صورت میں ظاہر ہو سکتی ہے۔

جان رکھیں کہ کھانے پینے کی وہ عام چیزیں جو کچھ بچوں کے لیے مسائل کا باعث بن سکتی ہیں ان میں دودھ کی مصنوعات، مچھلی، چاکلیٹ، گندم، خشک میوے یا رس دار پھل ہو سکتے ہیں۔ ان چیزوں کو اپنی خوراک سے نکالیں مت، جب تک کہ آپ کو بچے کی بے چینی اور ان میں سے کسی خوراک کے درمیان ربط کا اندازہ نہ ہو۔ اپنی خوراک تبدیل کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔

کیفین کی حامل خوراک اور مشروبات استعمال کیے جا سکتے ہیں جب تک کہ اس حوالے سے یہ معلوم نہ ہو کہ آپ کو کب اور کتنی استعمال کرنی ہے۔ دن میں کافی کے پانچ یا اس سے کم کپ استعمال کرنے سے تین ہفتے سے زیادہ عمر رکھنے والے بچوں میں عموماً مسائل نہیں دیکھے جاتے۔ البتہ 10 یا اس سے بھی زیادہ کپ استعمال کرنا بچوں میں اعصابی تناؤ، سونے کے معمولات میں خرابی اور بے چینی کا سبب بن سکتا ہے۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے یا تین ہفتوں سے چھوٹے بچوں پر کیفین کے زیادہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

کچھ دودھ پلانے والی مائیں بند گوبھی، پھول گوبھی، پیاز، لہسن اور پھلیوں جیسی سبزیوں کے استعمال سے اجتناب کرتی ہیں کیونکہ یہ اپھارہ کا سبب بن سکتی ہے۔ حقیقت میں گیس پیدا کرنے والے اجزا دودھ کے ذریعے بچے میں منتقل نہیں ہو سکتے، اس لیے وہ ان سبزیوں کا استعمال کر سکتی ہیں۔ لیکن پھر بھی اگر بچہ بے چینی اور پریشانی محسوس کرتا ہو تو دو ہفتے کے لیے ان سبزیوں کو چھوڑ کر دیکھیں۔ اگر بچہ بہتر ہو جائے تو ان سبزیوں کا استعمال بند کردیں لیکن اگر ایسا نہ ہو تو بچے کی بے چینی کا سبب یہ سبزیاں نہیں کچھ اور ہے۔

ایک اور اہم پرہیز آپ کو ٹھنڈی اور منجمد خوراک کے حوالے سے کرنا ہوگا۔ جمی ہوئی یا ٹھنڈی خوراک بسا اوقات انفیکشن کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر ماں کو انفیکشن ہو تو بچے میں بھی منتقل ہو سکتا ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اجتناب کیا جائے۔

مرچ مسالے والی اور مرغن غذاؤں سے بھی پرہیز کریں کیونکہ یہ معدے پر اثر ڈالتی ہیں۔ ایک مرتبہ پیٹ میں مسئلہ ہو تو ماں کا دودھ بھی اہم غذائیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ علاوہ، لہسن جیسی بو والی چیزوں کا استعمال دودھ میں بھی اس کی بو پہنچا دیتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ بچے ایسے دودھ کو پینے سے انکار کردے۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.