کھانا ضائع ہونے سے کیسے بچائیں؟

انتظار فرمائیں۔۔۔

ایک ایسی دنیا میں جہاں کے بڑے مسائل میں سے ایک بھوک اور خوراک کی کمی ہے، وہاں کھانے کا ضیاع کسی جرم سے کم نہیں۔ صرف امریکا میں سالانہ 40 فیصد خوراک میز پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کی منزل کوڑے دان بنتا ہے۔ اس کھانے کی کل مالیت سالانہ 165 ارب ڈالرز بنتی ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان میں یہ مسئلہ ابھی اس نہج پر تو نہیں پہنچا لیکن شہروں، بالخصوص نئے گھرانوں میں یہ مسئلہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جو بھی کھانا بچتا ہے، اس کا ٹھکانہ ہرگز کوڑے دان نہیں ہے۔ اس لیے رزق کی اس بے قدری اور ساتھ ہی بڑے مالی نقصان کو روکنے کے لیے کچھ تجاویز ذہن نشین کرلیں۔

کچھ نیا پکائیں

01-food-waste

ہمارے بڑے بوڑھے ایک کام کرتے ہیں، اگر آلو گوشت بچ گیا ہے، یا سبزی ہی رہ گئی ہے تو اس کا اگلے دن پلاؤ بنا لیا جاتا تھا۔ یہ روایت اب بھی کئی گھرانوں میں موجود ہے۔ اسے مزید پھیلنا چاہیے۔ باقی ایسی ہی ترکیبیں اپنے بزرگوں سے پوچھیں۔


چھوٹی پلیٹوں کا استعمال

02-food-waste

کھانا ضائع کرنے میں پیش پیش بچے ہوتے ہیں۔ ان کی ندیدی آنکھیں بڑی، منہ چھوٹا اور پیٹ چڑیا جتنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہو تو یہ ضرورت سے زیادہ کھانا نکال لیتے ہیں اور پھر بچا دیتے ہیں۔ اس لیے ایک نفسیاتی حربہ یہ ہے کہ کھانے کے لیے دسترخوان پر چھوٹی پلیٹیں استعمال کریں۔


خریداری میں اعتدال

03-food-waste

اس پورے عمل کا آغاز بازار سے سبزی، گوشت اور کھانے پینے کی دیگر اشیا خریدنے سے ہوتا ہے۔ اگر وہاں اعتدال کی راہ اختیار کی جائے تو بنیاد ہی سے اس مسئلے کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ جو چیزیں درکار ہیں، ان کی فہرست بنا لیں اور پھر اس سے بالکل بھی انحراف نہ کریں۔ اگر آپ ہفتے بھر کا سامان ایک ساتھ خریدتے ہیں تو اس عمل کو لازمی اختیار کریں۔ اس سے بہت ساری چيزیں خراب ہونے سے بچ سکتی ہیں جیسا کہ سبزیاں۔ جو زیادہ لینے کی صورت میں چند دن بعد کسی کام کی نہیں رہتی اور کوڑے میں چلی جاتی ہیں۔


کھانے کا شیڈول

05-food-waste

آپ کو یاد ہوگا کہ پہلے گھرانوں میں یہ روایت بھی ہوتی تھی کہ ہر کھانے کا دن مقرر ہوتا تھا۔ جمعے سمیت دو دن ہفتے میں ایسے ہوتے تھے جن میں گوشت پکتا تھا۔ باقی دو دن دال اور تین دن سبزی۔ اس روایت کا نئی نسل نے سرے سے خاتمہ کردیا ہے جو اپنے بچپن میں سبزی اور دالوں کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتی تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کفایت شعاری وہی تھی، جو بڑوں نے اختیار کی۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کو کون سا کھانا کتنی بار بنانا ہے اور اس کے لیے کون سا سامان کتنی مقدار میں ضروری ہے۔ ہفتے بھر کا سامان خریدنے کے لیے فہرست میں یہ چیز بہت مددگار ہوگی۔


ایک اہم مشورہ

04-food-waste

ہمارے ہاں دکانوں اور اسٹورز میں سبزی اور پھلوں کی خوبصورتی کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ حالانکہ جو آلو چھوٹے سائز کا ہے، یا اس میں معمولی داغ ہے وہ بھی کھانے میں ویسا ہی ہوگا۔ آپ نے بھلا کون سا اس کو سالم نگلنا ہے؟ کٹے گا تو ویسے بھی۔ اس لیے تھوڑے بہت داغ والی سبزیاں اور پھل ضرور خریدیں۔ بس وہ زیادہ خراب یا سڑے ہوئے نہ ہوں۔ ان کو استعمال کریں یہ آپ کی جیب پر موجود بوجھ کو ہلکا کریں گے اور اس ضیاع کو بھی روکیں گے جو دکاندار ان کے مکمل سڑ جانے کے بعد کچرے میں پھینک کر کرے گا۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.