بچے کی نفسیاتی تربیت میں باپ کا کردار زیادہ اہم

انتظار فرمائیں۔۔۔

وہ والد جو اپنے بچوں کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے ہوں اور باپ کے طور پر پر اعتماد ہوں ان کے بچوں میں رویہ جاتی و نفسیاتی مسائل جنم لینے کا امکان کم ہوتا ہے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کی ایک تازہ تحقق میں پایا گیا ہے کہ والد کی بچے سے جذباتی وابستگی اور قریبی تعلق بچے کی نفسیات پر سب سے گہرا اثر رکھتی ہے۔ تحقیق کے مطابق نئے باپ بننے والے خود کو والد کی حیثیت سے کیسا سمجھتے ہیں، اپنے اس نئے کردار کو کتنی اہمیت دیتے ہیں، اس میں کتنا جلد ڈھلتے ہیں، اس کے بچے کے رویے پر مثبت نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ ان نتائج کے لیے ڈیٹا جنوب مغربی انگلینڈ میں والدین اور بچوں کی طویل عرصے تک کی جانے والی تحقیق سے لیا گیا ہے۔ 10 ہزار 440 بچوں کے کے والدین کو ایک سوالنامہ مکمل کرنے کو کہا گیا جو آٹھ ماہ کی عمر کے بچے تھے اور اپنی ماں اور باپ دونوں کے ساتھ رہتے تھے۔ جس میں بچے پالنے کے رویے، اس پر صرف ہونے والے وقت، بچے کے رویے اور نشوونما کے بارے میں سوالات تھے۔ یہی ڈیٹا نو اور 11 سال کی عمر میں 6 ہزار سے زیادہ بچوں کے لیے بھی جمع کیا گیا۔ نتائج نے ظاہر کیا کہ وہ والد جو اپنے بچے سے جذباتی وابستگی رکھتے تھے اور والد کی حیثیت سے خود کو مضبوط تصور کرتے تھے، کے بچوں میں بلوغت سے قبل مسائل 28 فیصد کم تھے۔

تحقیق کرنے والوں نے کہا کہ والد کی جانب سے مثبت تربیت بچوں میں مختلف خوبیاں پیدا کرتی ہے۔ باپ بالواسطہ طریقے سے بھی بچے کی تربیت میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے جیسا کہ وہ ماں کو تربیت کے حوالے سے آگاہ رکھے۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.