ماں کے حصّے کا ایک دِن

انتظار فرمائیں۔۔۔
zahid saeed urdutribe

زاھد سعيد

زاہد سعید ایک سکہ بند پختہ فکر شاعر ہیں۔  بلتستان سے تعلق اور سعودی عرب میں مقیم ہیں۔


تُم ہو اے ماں پُرانے وقتوں کی
تُم بھلا عَہدِ نو کو کیا جانو
اور کیا سمجھو اس کی قدروں کو
اپنے اپنے زمانے ہوتے ہیں
اور ہر عَہد، ہر زمانے کے
اپنے اپنے تقاضے ہوتے ہیں

کیا خبر تُم کو بے خبر اے ماں!!
کتنی مصروف ہو گئی ہے زیست
نوری رفتار سے رواں ہیں یہاں
وقت کی رو اور آدمی کے قَدَم
کارزارِ جہان میں گویا
سانس لینا بھی اک خسارا ہے

صبح کی واک، شام کی چائے
محفلِ دوستاں میں خوش گپیاں
جاب کی فکر، کاروبار کے غم
آل و اولاد کی پریشانی
ان کی خاطر سنہرا مستقبل
غمِ موجود، فکرِ آئنده

اور میرے وہ سارے اونچے خواب
ابھی تعبیر جن کی باقی ہے

خوش ہوں اے ماں تُمھارے حصّے میں
اتنی مصروفیات کے ہوتے
ایک دِن اب بھی آ ہی جاتا ہے

 

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.