جنت سے جون ایلیا کا خط انور مقصود کے نام

انتظار فرمائیں۔۔۔

انور مقصود


انو جانی !
تمہارا خط ملا، پاکستان کے حالات پڑھ کر کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی۔ یہاں بھی اسی قسم کے حالات چل رہے ہیں۔ شاعروں اور ادیبوں نے مر مر کر یہاں کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ مجھے یہاں بھائیوں کے ساتھ رہنے کا کہا گیا تھا۔ میں نے کہا کہ میں زمین پر بھی بھائیوں کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا۔ مجھے ایک الگ کوارٹر عنایت فرمائیں۔ مصطفیٰ زیدی نے یہ کام کردیا اور مجھے کوارٹر مل گیا، مگر اس کا ڈیزائن نثری نظم کی طرح کا ہے جو سمجھ میں تو آجاتی ہے، لیکن یاد نہیں رہتی، روزانہ بھول جاتا ہوں کہ میرا بیڈ روم کہاں ہے۔ لیکن اس کوارٹر میں رہنے کا ایک فائدہ ہے، میر تقی میر کا گھر سامنے ہے۔ ان کے 250 اشعار جن میں وزن کا فقدان تھا، نکال چکا ہوں، مگر میر سے کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔

کُوچہ شعر و سخن میں سب سے بڑا گھر غالب کا ہے۔ میں نے میر سے کہا آپ غالب سے بڑے شاعر ہیں، آپ کا گھر ایوانِ غالب سے بڑا ہونا چاہیے۔ میر نے کہا، دراصل وہ گھر غالب کے سسرال کا ہے، غالب نے اس پر قبضہ جمالیا ہے۔ میر کے گھر کوئی نہیں آتا، سال بھر کے عرصے میں بس ایک بار ناصر کاظمی آئے وہ بھی میر کے کبوتروں کو دیکھنے کے لیے۔ ایوانِ غالب مغرب کے بعد کھلا رہتا ہے، جس کی وجہ تم جانتے ہو

مجھے کیا بُرا تھا مرنا،
اگر ایک ”بار“ ہوتا۔

یہاں آکر یہ مصرع مجھے سمجھ میں آیا۔ اس میں ”بار“ انگریزی والا ہے۔

دو مرتبہ غالب نے مجھے بھی بلوایا، لیکن منیر نیازی نے یہاں بھی میرا پتہ کاٹ دیا۔ سودہ کا گھر میرے کوارٹر سے سو قدم کے فاصلے پر ہے۔ یہاں آنے کے بعد میں ان سے ملنے گیا، مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے، میاں! تم میرا سودا لا دیا کرو۔ مان گیا۔ سودہ کا سودا لانا میرے لیے باعث عزت ہے۔ لیکن جانی! جب سودہ حساب مانگتے تھے تو مجھ پر قیامت گزر جاتی تھی۔ جنت کی مرغی اتنی مہنگی لے آئے، حلوہ کیا نیاز فتح پوری کی دکان سے لے آئے؟ تمہیں ٹینڈوں کی پہچان نہیں ہے؟ ہر چیز پہ اعتراض۔ مجھے لگا تھا کہ وہ شک کرنے لگے ہیں کہ میں سودے میں سے پیسے رکھ لیتا ہوں۔ چار روز پہلے میں نے ان سے کہہ دیا کہ میں اردو ادب کی تاریخ کا واحد شاعر ہوں جو اسی لاکھ کیش چھوڑ کے یہاں آیا ہے۔ آپ کے ٹینڈوں سے کیا کماؤں گا۔ آپ کو بڑا شاعر مانتا ہوں اس لیے کام کرنے کو تیار ہوا، آپ کی شاعری سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ آپ کی کوئی زمین استعمال نہیں کی۔ آیندہ اپنا سودا فیض احمد فیض سے منگوایا کیجیے، تاکہ آپ کا تھوڑا بہت قرض تو چکائیں۔ میرے ہاتھ میں بینگن تھا، وہ ان کو تھمایا اور کہا:

بینگن کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں

ایک شہد کی نہر کے کنارے احمد فراز سے ملاقات ہوئی، میں نے کہا میرے بعد آئے ہو، اس لیے خود کو بڑا شاعر مت سمجھنا۔ فراز نے کہا، مشاعرے میں نہیں آیا۔ پھر مجھ سے کہنے لگے، امراؤ جان کہاں رہتی ہے؟ میں نے کہا، رسوا ہونے سے بہتر ہے گھر چلے جاؤ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں رہتی ہے۔

جانی! ایک حُور ہے جو ہر جمعرات کی شام میرے میرے گھر آلو کا بھرتا پکا کے لے آتی ہے۔ شاعری کا بھی شوق ہے، خود بھی لکھتی ہے، مگر جانی! جتنی دیر وہ میرے گھر رہتی ہے صرف مشتاق احمد یوسفی کا ذکر کرتی ہے۔ اس کو صرف مشتاق احمد یوسفی سے ملنے کا شوق ہے۔ میں نے کہا، خدا ان کو لمبی زندگی دے، پاکستان کو ان کی بہت ضرورت ہے، اگر ملنا چاہتی ہو تو زمین پر جاؤ، جس قسم کی شاعری کررہی ہو کرتی رہو، وہ خود تمہیں ڈھونڈ نکالیں گے اور پکنک منانے سمندر کے کنارے لے جائیں گے۔

ابنِ انشاء، سید محمد جعفری، دلاور فگار، فرید جبال پوری اور ضمیر جعفری ایک ہی کوارٹر میں رہتے ہیں۔ ان لوگوں نے 9 نومبر کو اقبال کی پیدائش کے سلسلے میں ڈنر کا اہتمام کیا تھا۔ اقبال، فیض، قاسمی، صوفی تبسم، فراز اور ہم وقتِ مقررہ پر پہنچ گئے۔ کوارٹر میں اندھیرا تھا اور دروازے پر پرچی لگی تھی: ”ہم لوگ جہنم کی بھینس کے پائے کھانے جارہے ہیں، ڈنر اگلے سال 9 نومبر کو رکھا ہے۔“ اگلے دن اقبال نے پریس کانفرنس کی اور ان سب کی ادبی محفلوں میں شرکت پر پابندی لگا دی۔

تم نے اپنے خط میں مشفق خواجہ کے بارے میں پوچھا تھا۔ وہ یہاں اکیلے رہتے ہیں، کہیں نہیں جاتے۔ مگر حیرت کی بات ہے جانی! میں نے ان کے گھر اردو اور فارسی کے بڑے بڑے شاعروں کو آتے جاتے دیکھا ہے۔ یہاں آنے کی بھی جلدی نہ کرنا کیونکہ تمہارے وہاں رہنے میں میرا بھی فائدہ ہے۔ اگر تم بھی یہاں آگئے، پھر وہاں مجھے کون یاد کرے گا؟؟؟

جیتے رہو اور کسی نہ کسی پر مرتے رہو،ہم بھی کسی نہ کسی پر مرتے رہے مگر جانی! جینے کا موقع نہیں ملا۔

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.