دنیا کے انوکھے آرٹ کے خالق سے ملیے

کسی زبان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس کے دم توڑتے ہی اس سے وابستہ تہذیب و ثقافت اور رِیتیں و رسمیں بھی ناپید ہوجاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت صرف پاکستان میں 27 زبانیں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں، جن کے احیا کے لیے کوششیں نہایت ضروری ہیں۔

دوسری جانب دنیا بھر میں 65 کروڑ افراد کی پہلی زبان یعنی اُردو اور ہندی، جو رسم الخط مختلف ہونے کے باوجود تقریباً ایک ہی جیسی زبانیں ہیں، سنسکرت اور عربی زبان کے الفاظ کی بے جا شمولیت سے دونوں ممالک کے باشندوں کے لیے اجنبی بنتی جارہی ہیں۔

اس خدشے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے معروف وکیل اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر سید محمد انور نے لسانیات اور فن خطاطی کے امتزاج پر مبنی کتاب ’’سامروپ رچنا‘‘ تخلیق کی ہے۔
SamrupRachna book title
اس کتاب کی رونمائی ”لوک ورثہ“ میں شروع ہونے والے مادری زبانوں کے قومی میلے کے پہلے دن کی گئی۔ اس منفرد فن خطاطی میں ہندی رسم الخط دیوناگری اور اردو رسم الخط نستعلیق کو ملا کر اس طرح خطاطی کی جاتی ہے کہ جس لفظ کو لکھا جائے، اس کی تصویر بن جائے۔

اپنی اس منفرد کاوش کے حوالے سے ’’اردو ٹرائب ڈاٹ کام‘‘ سے خصوصی گفتگو میں ڈاکٹر سید محمد انور کا کہنا تھا کہ انہیں ابتدا ہی سے پینٹنگ اور مختلف زبانیں سیکھنے کا شوق تھا۔ وہ اردو اور انگریزی زبان پر عبور رکھنے کے علاوہ ہندی، فارسی اور عربی زبان کی اچھی خاصی شد بد رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی اس انوکھی تخلیق ’’ سامروپ رچنا‘‘ کا آغاز 2012ء میں کیا، جبکہ انہوں نے اس حوالے سے پہلی پینٹنگ 2011ء میں تخلیق کی تھی۔ اردو اور ہندی کو دو الگ زبانیں کہنے کے بہ جائے انہیں ’’اپنی بولی‘‘ قرار دینے والے سید محمد انور کا دعویٰ ہے کہ آج تک پوری دنیا میں ایسا آرٹ تخلیق نہیں ہوا۔

’’اردو ٹرائب‘‘ سے خصوصی بات چیت میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’میں ہندی اور اردو کو ایک ہی زبان سمجھتا ہوں اور اس اعتبار میں یہ دنیا کی واحد زبان ہے، جس کے دو رسم الخط ہیں۔‘‘

اپنی نوعیت کی اس منفرد کتاب ’’سامروپ رچنا‘‘ میں دیوناگری اور نستعلیق رسم الخط پر مبنی 60 پینٹنگز شامل ہیں۔ ڈاکٹر سید محمد انور نے اتفاقاً اس کتاب پر کام شروع کیا اور انہوں نے کسی سے مدد لیے بغیر اسے تکمیل تک پہنچایا۔

اپنی کتاب کے مقاصد کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’ کسی بھی زبان کو مذہب سے نہ جوڑا جائے۔ مثال کے طور پر آج ہندی میں سنسکرت اور اردو میں فارسی کے بعد عربی زبان کے الفاظ بے جا شامل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اس طرح ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اگر یہی سلسلہ جاری رہا، تو یہ زبان ایک روز دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے اجنبی ہو جائے گی۔ میری اس کتاب کی مدد سے اردو پڑھنے والے افراد ہندی لکھنااور پڑھنا بھی سیکھ سکتے ہیں، جبکہ ہندی پڑھنے اور لکھنے والے افراد اردو لکھنا اور پڑھنا سیکھ سکتے ہیں اور یوں دونوں ممالک کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب آنے میں مدد ملے گی، جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘‘
urdu hind caligraphy prof. syed m anwar lok wirsa SamrupRachna 01
معروف وکیل اور ماہر لسانیات کا مزید کہنا تھا کہ ’’اس وقت دنیا بھر میں 60 سے 65 کروڑ افراد ’’اپنی بولی‘‘ بولتے ہیں اور ان افراد کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے اس قسم کی کاوشوں کی اشد ضرورت ہے۔ میری خواہش ہے کہ ’’سامروپ رچنا‘‘ کو نصاب میں بھی شامل کیا جائے، کیونکہ اس کتاب کے ذریعے پاکستانی طلبہ بہ آسانی دیوناگری سیکھ سکتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر سید محمد انور ’’ڈان‘‘ اور ’’دی نیوز‘‘ سمیت دیگر معروف انگریزی اخبارات میں لسانیات پر کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔ انہوں نے دیوناگری رسم الخط اپنی والدہ سے سیکھا اور وہ اس سلسلے کی دوسری کتاب بھی لکھنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر سید محمد انور نے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی سے اوریئنٹل لینگویجز میں ماسٹرز بھی کر رکھا ہے اور وہ ’’اپنی بولی‘‘ کی ترویج و اشاعت کے ذریعے پاکستان و بھارت کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

ویب ڈیسککے متعلق
اردو ٹرائب ڈاٹ کام کا مقصد دنیائے انٹرنیٹ میں ایک مستند اور حقیقی اردو میگزین کا قیام ہے۔ آپ یہاں دلچسپ اور معلوماتی خبریں پڑھ سکتے ہیں۔ اپنی معلومات شیئر کرنے کے لیے ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں: [email protected]

Facebook Comments



POST A COMMENT.