لیسا کی تلاش

انتظار فرمائیں۔۔۔

ولیم بلیک 28 نومبر 1757ء کو پیدا ہوا۔ چودہ سال کی عمر میں اس نے خطاطی اور نقاشی میں دلچسپی لینا شروع کردی۔ یہ شوق اسے ساری عمر رہا۔ کئی کتابوں میں اس کی خطاطی اور نقاشی کے اعلیٰ نمونے موجود ہیں۔ وہ اعلیٰ درجے کا شاعر بھی تھا۔ 12 اگست 1827ء اس کی تاریخِ وفات ہے۔

THE LITTLE GIRL FOUND

لیسا کے ماں باپ شب بھر وادیوں کی تہہ میں
ڈھونڈتے پھرتے رہے اس کو بصد رنج و الم
اور صحرا بھی بہ چشمِ نم تھا مصروفِ فغاں

دونوں افسردہ پریشاں حال اور خستہ بدن
گریہ و زاری سے آوازیں رندھی تھیں اور وہ
سات دن باہوں میں باہیں ڈال کر پھرتے رہے
ڈھونڈتے پھرتے رہے صحرا کے راستوں پر، اُسے

سات راتیں کاٹ دیں پیڑوں کی گہری چھائوں میں
اور اِک شب خواب میں لیسا نظر آئی اُنہیں
بھوکی پیاسی مضمحل صحرا کی بنجر ریت پر
زرد چہرے لیکے وہ چلتے رہے اُس راہ پر
جس پہ اس سے پہلے انساں کے قدم آئے نہ تھے
تھی تصور میں وہ بھوکی اور پیاسی، ننھی جاں

جس کی حالت رحم کے قابل تھی وہ معصوم جاں
بے کلی کی نیند سے جاگی، اُٹھی لیسا کی ماں
کپکپاتی کانپتی، آگے کی جانب چل پڑی
غم، پریشانی، تھکن اور مضمحل قدموں کے ساتھ
تھی تھکن اتنی کہ چل سکتی نہ تھی وہ اِک گام

اس کے خاوند نے سمیٹا اپنی باہوں میں اُسے
اور مسلح درد و غم سے ہوکے وہ آگے بڑھا
دفعتاً اِک شیر ان کے راستے میں آگیا
حملہ کرنے کے لیے تھا گھات میں بیٹھا ہوا
اب قدم پیچھے کی جانب موڑنا بے سود تھا
ان کو دے مارا زمیں پر شیر نے اِک آن میں
تھی بہت مضبوط، بھاری اور قوی اُس کی ایال
اور لگا پھر کاٹنے چکر وہ اُن کے ارد گرد

شیر نے سونگھے شکار اپنے، وہ دونوں جاگ اُٹھے
خوف کے مارے زن و شوہر کا دم گھٹنے لگا
اور پھر چاٹے زباں سے ہاتھ اُن کے شیر نے
پھر بہت خاموش ہوکر اُن کے پہلو میں رُکا

شیر کی آنکھوں میں جب دیکھا تو دونوں کو وہاں
ایک حیرت اور حیرانی نظر آئی، انہیں
ان کے استعجاب نے دیکھا کہ وہ اِک روح تھی
جو مزین تھی چمک اور سیم و زر کے نور سے
اُس کے سر پر تاج، کاندھوں پر سنہری بال تھے
بال تھے کاندھوں سے نیچے کی طرف لٹکے ہوئے
دیکھ کر اس کو جو تھا ڈر خوف سب جاتا رہا

”میرے پیچھے آئو“ وہ بولا ”یہ آنسو پونچھ لو
مت بہائو اشک اب تم اپنی بیٹی کے لیے
میرے گھر میں سو رہی ہے وہ بڑے آرام سے“

جس طرف اُن کو تصور لے گیا پیچھے چلے
اور دیکھا سورہی ہے اُن کی بیٹی چین سے
شیر کے گھر، شیر کے وحشی صفت ماحول میں

رہ رہے ہیں تنہا وادی میں وہ جب سے آج تک
ڈر نہیں ان کو کہ کوئی بھیڑیا غُرائے گا
اور نہ اُن کو شیر ہی کے دھاڑنے کا خوف ہے

loading ads...

Facebook Comments



POST A COMMENT.